Internationalٹائٹل

امریکا–ایران مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان، ڈونلڈ ٹرمپ نے 72 گھنٹوں میں پیش رفت کی امید ظاہر کر دی

واشنگٹن کو دوسرے دور میں مثبت نتائج کی توقع، ایران کا کہنا ہے قومی مفادات کے مطابق سفارتی اقدامات کیے جائیں گے

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے اور آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے اندر بات چیت ہو سکتی ہے۔

ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں مثبت پیش رفت کی امید ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں اور جلد کوئی اچھی خبر سامنے آ سکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارتکاری کو قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی محسوس ہوا کہ مذاکرات ملک کے مفاد میں ہیں تو ایران مناسب سفارتی اقدامات کرے گا۔

ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی درخواست پر امریکا کی جانب سے ایران سے متعلق عارضی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن میں بھی توسیع کی گئی تھی، جس کے بعد مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

جواب دیں

Back to top button
بول کر تلاش کریں