
آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائی، اسرائیل سے منسلک جہاز سمیت دو بحری جہاز تحویل میں لے لیے گئے
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ، قواعد کی خلاف ورزی اور سیفٹی خطرات کے باعث جہازوں کو ایرانی حدود میں منتقل کیا جا رہا ہے
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے درمیان ایران نے دو غیر ملکی بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے ایک جہاز کو اسرائیل سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا Press TV کی رپورٹ کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے دونوں جہازوں کو روک کر ایرانی حدود میں منتقل کرنے کی تصدیق کی۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تحویل میں لیے گئے جہازوں کی شناخت "ایم ایس سی فرانسسکا” اور "ایپامینوڈس” کے نام سے کی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایم ایس سی فرانسسکا کو اسرائیل سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی بحریہ کے مطابق دونوں جہاز بغیر اجازت سرگرم تھے اور بار بار نیویگیشن قواعد کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ جہازوں کی جانب سے نیویگیشن سسٹم میں رد و بدل بھی کیا گیا، جس سے آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کی خلاف ورزیوں کے باعث دونوں جہازوں کو قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کی نگرانی جاری رہے گی اور مقررہ قوانین کی خلاف ورزی پر قانونی اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔







