Internationalٹائٹل

امریکی سینیٹ میں ایران جنگی اختیارات پر نئی سیاسی کشمکش، ڈیموکریٹس کی چھٹی ووٹنگ کی کوشش

چک شومر کا صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ، کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی پر اعتراضات شدت اختیار کر گئے

امریکی سیاست میں ایران سے متعلق جنگی اختیارات کے معاملے پر ایک بار پھر شدید بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے ایک نئی کوشش کا اعلان کیا ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس ہفتے “وار پاورز ریزولوشن” پر چھٹی مرتبہ ووٹنگ کرانے کے لیے دباؤ ڈالے گی، جس کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر صدر کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں چک شومر نے موجودہ صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ایک غیر مقبول اور متنازع جنگ کے 60 دن مکمل ہو رہے ہیں، تو کیا ریپبلکن ارکان صدر ٹرمپ کی حمایت جاری رکھیں گے یا آئینی اصولوں کے مطابق کانگریس کے کردار کو تسلیم کریں گے؟

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے اور فوجی کارروائیوں کی اجازت دینے کا اختیار صدر کے بجائے کانگریس کے پاس ہونا چاہیے، تاکہ کسی بھی بڑے فوجی فیصلے میں عوامی نمائندوں کی منظوری شامل ہو۔

ڈیموکریٹس اس سے قبل بھی کئی مرتبہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں کوشش کر چکے ہیں کہ ایران سے متعلق کسی بھی فوجی اقدام کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کیا جائے، تاہم ان کوششوں کو اب تک مطلوبہ سیاسی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

جواب دیں

Back to top button
بول کر تلاش کریں