
امریکا-چین کشیدگی میں اضافہ: عالمی تیل رسد پر کنٹرول کے لیے سمندری راستے مرکزِ تنازع
آبنائے ہرمز اور ملاکا پر دباؤ، تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے تجاوز، عالمی معیشت پر اثرات کا خدشہ
عالمی تیل کی رسد پر کنٹرول کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں اہم سمندری راستے جیوپولیٹیکل دباؤ کے اہم ذرائع بنتے جا رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو متاثر کرنے کے لیے اہم بحری گزرگاہوں کو بطور حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2026 میں امریکا نے وینزویلا میں کارروائی کے دوران سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا، جس کے بعد دنیا کے بڑے تیل ذخائر پر امریکی اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو گیا۔
اسی تناظر میں فروری میں ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جو عالمی تیل ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے اور جہاں سے تقریباً 20 سے 25 فیصد تیل گزرتا ہے۔
مزید برآں مارچ میں امریکا نے انڈونیشیا کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے آبنائے ملاکا پر اپنی نگرانی بڑھا دی، جو عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ چین کی بڑی مقدار میں تیل درآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں، جس کے باعث یہ پیش رفت بیجنگ کے لیے خاصی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی اس حکمت عملی کا مقصد چین کی توانائی سپلائی کو محدود کرنا ہے، تاہم چین نے اس کے جواب میں متبادل راستوں، روس سے درآمدات اور اسٹریٹجک ذخائر پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
میڈیا ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چین کے پاس ایک ارب بیرل سے زائد تیل کا ذخیرہ موجود ہے اور وہ خفیہ ٹینکرز کے ذریعے بھی اپنی سپلائی لائن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں ایشیا اور یورپ میں تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے باعث کئی ممالک کو ہنگامی اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ملاکا پر کنٹرول امریکا کے لیے فیصلہ کن ثابت نہیں ہو گا، کیونکہ چین پہلے ہی زمینی پائپ لائنز، سفارتی حکمت عملی اور علاقائی روابط کے ذریعے متبادل راستے تیار کر چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک عالمی شطرنج کی مانند ہے، جہاں امریکا اور چین کے درمیان برتری کی جنگ جاری ہے اور دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آخر کون پیچھے ہٹتا ہے۔







