
انصاراللہ کے رہنما علی الدیلمی کا سعودی عرب کو انتباہ، یمن پر دباؤ بڑھانے کے نتائج سے خبردار
سیاسی دفتر کے رکن کا کہنا ہے کہ یمن کا معاشی محاصرہ فوری ختم کیا جائے، داخلی معاملات میں مداخلت خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے
Ansar Allah (یمنی تحریک انصاراللہ) کے سیاسی دفتر کے رکن Ali al-Dailami نے Saudi Arabia کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے خلاف مبینہ معاندانہ اقدامات میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو خطے کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
سعودی پالیسیوں پر تنقید
علی الدیلمی کا کہنا تھا کہ ریاض اب بھی یمن کے حوالے سے بالادستی کی پالیسی پر کاربند ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ فکر امریکی فیصلہ سازوں کی سوچ سے جڑا ہوا ہے، جو یمن کو سعودی اثر و رسوخ کے دائرے میں دیکھتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی حکمت عملی نہ صرف یمن کی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ علاقائی استحکام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
معاشی محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ
انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ یمنی عوام کو درپیش معاشی اور سماجی مشکلات مزید قابلِ برداشت نہیں رہیں۔ ان کے بقول یمن پر عائد اقتصادی پابندیاں اور دباؤ فوری طور پر ختم کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کے داخلی امور میں مداخلت بند کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی کا خدشہ
علی الدیلمی نے خبردار کیا کہ موجودہ پالیسیوں کا تسلسل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے سنجیدہ اور واضح فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔







