Politics

سولر صارفین پر ٹیکس کا نفاذ حکومتی بدنیتی اور عوام دشمنی کا ثبوت ہے

نااہل حکمرانوں کا بس چلے تو عوام کے سانس لینے اور آکسیجن پر ٹیکس لگادے

امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر صارفین پر نئے ٹیکسز، لائسنسنگ فیس، انسپیکشن چارجز اور فی کلوواٹ فیس عائد کرنے کے حکومتی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے حکومتی بدنیتی اور عوام دشمنی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کا خون نچوڑنے والے اس ظالمانہ فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ نااہل حکمرانوں کا اگر بس چلے تو یہ عوام کے سانس لینے اور آکسیجن کے استعمال پر بھی ٹیکس لگا دیں۔ حکومت ہر اس اقدام کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے جس سے عوام کو کسی حد تک ریلیف مل رہا ہے۔امیر لاہورنے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں جب بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، شہریوں نے اپنی محدود جمع پونجی لگا کر سولر سسٹمز نصب کیے تاکہ وہ مہنگی بجلی سے نجات پا سکیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے نئی فیسوں اور لائسنسنگ کا نفاذ نہ صرف عوام پر معاشی بوجھ ہے بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتیں اپنے شہریوں کو متبادل اور سستی توانائی کی طرف راغب کرنے کے لیے مراعات دیتی ہیں، جبکہ پاکستان میں حکمران سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کر کے بدترین معاشی استحصال کر رہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی اس عوام دشمن پالیسی پر نظر ثانی کرے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں ریلیف فراہم کیا جائے اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔

جواب دیں

Back to top button
بول کر تلاش کریں