
امن کی کوششیں؛ زمینی حقائق سے چشم پوشی
(شبیر سعیدی)
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے امریکہ- اسرائیل- ایران جنگ کو روکنے کی کوششیں یقیناً قابلِ قدر ہیں۔ کسی بھی ذمہ دار ریاست کی طرح پاکستان نے سفارتی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، اور اگر وہ ایک مؤثر اور بڑا علاقائی کھلاڑی بننا چاہتا ہے تو اس کے لیے مواقع بھی موجود ہیں—کیونکہ ایک کامیاب سفارتی قوت بننے کے لیے درکار کئی بنیادی خصوصیات پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوششیں زمینی حقائق سے ہم آہنگ بھی ہیں؟
بیجنگ میں پاکستانی وزیر خارجہ کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر ایک منظم اور مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے، لیکن گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو یہ احساس ابھرتا ہے کہ یا تو زمینی حقائق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا پھر صورتحال کی مکمل اور درست تفہیم موجود نہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان خطے میں امن کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا، جس میں فوری جنگ بندی، مذاکرات کا آغاز، شہری اہداف کا تحفظ، تجارتی راستوں اور آبنائے ہرمز کی بحالی، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امن معاہدہ شامل ہیں۔
بظاہر یہ نکات کسی بھی تنازع کے حل کے لیے نہایت معقول اور قابلِ قبول معلوم ہوتے ہیں، مگر اصل مسئلہ ان کے اطلاق اور پس منظر میں پوشیدہ ہے۔
ایران پہلے ہی ایسے فارمولوں کو مسترد کر چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران اس تنازع کو محض ایک دوطرفہ جنگ نہیں بلکہ ایک مسلط کردہ جارحیت کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک اصل مسئلہ جنگ بندی نہیں بلکہ جارحیت کا تسلسل ہے۔ تاریخی تجربہ موجود ہے کہ مذاکرات کے دوران ہی ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع سے لے کر بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی تک بڑے نقصانات ہوتے ہیں، تو ایسے میں محض جنگ بندی کی بات ایک اُدھوری اور غیر متوازن تجویز محسوس ہوتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ یہ جنگ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ اگر اس جارحانہ طرزِ عمل کو روکا نہیں گیا تو چند ماہ بعد یہی منظر دوبارہ دہرایا جائے گا—پہلے حملہ، پھر جنگ بندی، اور پھر مذاکرات کا ایک نیا دور۔ اس چکر کو توڑے بغیر کسی بھی امن منصوبے کی کامیابی مشکوک ہے۔
اس ساری صورتحال میں ایک اور بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ایران کو پہنچنے والے نقصانات پر عالمی سطح پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ معصوم شہریوں کی ہلاکتیں، خواتین اور بچوں کی شہادتیں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی تباہی—یہ سب ایسے عوامل ہیں جن کا ازالہ محض سفارتی بیانات سے ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان نقصانات کی تلافی کون کرے گا؟
مزید برآں، ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں اس کے عوام نے بے شمار مشکلات برداشت کی ہیں، جن میں ادویات کی قلت سے لے کر بنیادی ضروریات کی فراہمی تک کے مسائل شامل ہیں۔ لیکن عالمی ضمیر اس وقت خاموش رہا۔ آج جب ایران اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اچانک عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے—ہر طرف سے چیخ و پکار سنائی دیتی ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں، اور عالمی معیشت خطرے میں ہے۔
یہ دوہرا معیار ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جن کے جواب کےلئے دنیا میں کوئی میکنزم موجود نہیں ہے بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا غیر عادلانہ اصول دنیا پر حاکم دکھائی دیتا ہے ۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایران میں پاکستان کے لیے خیر سگالی کے جذبات پائے جاتے ہیں، اور پاکستانی عوام بھی ایرانی عوام کی استقامت اور حوصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایران میں عمومی طور پر مثبت انداز میں لیا جاتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود بیجنگ اعلامیہ ایک ایسا پیغام دینے میں ناکام نظر آتا ہے جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو اور جس میں ایران کے زخمی وجود کےلئے کوئی مرہم تجویز کیا گیا ہو۔ جب امن کی تجاویز ایک فریق کے بنیادی تحفظات کو نظر انداز کریں تو وہ تجاویز مؤثر نہیں رہتیں۔
پاکستان کی امن کوششیں اپنی جگہ قابلِ تحسین ہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ سفارتی حکمتِ عملی محض رسمی نکات تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی حقائق اور تمام فریقین کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی جائے۔
کیونکہ پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب مذاکرات یک طرفہ نہ ہوں بلکہ تمام متعلقہ فریقین کی جائز شرائط اور تحفظات کو برابر اہمیت دی جائے۔

