
شکریہ یومِ مئی سب نے مجھے یاد کیا
شکریہ یومِ مئی سب نے مجھے یاد کیا ......... آئندہ سال اب آرام سے کٹ جائے گا
خالد منصور
یہ شعر بظاہر سادہ ہے مگر اپنے اندر ایک گہرا طنز اور کڑوی حقیقت سموئے ہوئے ہے۔ اس میں ایک مزدور کی وہ خاموش فریاد جھلکتی ہے جو سال میں صرف ایک دن سنی جاتی ہے، جبکہ باقی پورا سال وہی مزدور فراموشی، محرومی اور استحصال کا شکار رہتا ہے۔
یومِ مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے حقوق، ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن سیمینارز، ریلیاں اور تقاریب منعقد ہوتی ہیں، مزدوروں کے حق میں تقاریر کی جاتی ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ عملی تبدیلی میں بھی ڈھلتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جسے یہ شعر نہایت خوبصورتی سے اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں مزدور آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ کم اجرت، غیر محفوظ کام کے حالات، طویل اوقات کار، اور سوشل سکیورٹی کا فقدان ان کے روزمرہ مسائل ہیں۔ ایک مزدور جو صبح سے شام تک محنت کرتا ہے، اکثر اتنی آمدنی بھی حاصل نہیں کر پاتا کہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔ مہنگائی کے اس دور میں اس کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں، جہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں مگر اجرتیں وہی پرانی سطح پر جمی ہوئی ہیں۔
یہ شعر اس رویے پر بھی تنقید کرتا ہے کہ ہم مزدور کو صرف ایک دن یاد کرتے ہیں۔ یومِ مئی کے موقع پر مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے، مگر اگلے ہی دن وہی مزدور دوبارہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ گویا ایک دن کی توجہ کو پورے سال کے لیے کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ایک اجتماعی بے حسی کی علامت بھی ہے۔
مزدوروں کے مسائل صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی ہیں۔ انہیں عزت اور وقار کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، حالانکہ وہی لوگ معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر صنعت، زراعت اور تعمیر کا پہیہ رک جائے۔ اس کے باوجود ان کی محنت کا صلہ اکثر ناانصافی کی صورت میں ملتا ہے۔
حل اس بات میں ہے کہ یومِ مئی کو صرف ایک علامتی دن کے طور پر نہ منایا جائے بلکہ اسے عملی اقدامات کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کرے اور اس پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔ کم از کم اجرت میں اضافہ، سوشل سکیورٹی، صحت کی سہولیات اور محفوظ کام کے ماحول کی فراہمی ایسے اقدامات ہیں جو مزدور کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں مزدور کو صرف ایک محنت کش نہیں بلکہ ایک باعزت انسان سمجھنا ہوگا، جس کے حقوق اور عزت کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کہیں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تو نہیں جو سال میں صرف ایک دن مزدور کو یاد کرتے ہیں؟ اگر واقعی ہم ایک منصفانہ اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا اور مزدور کو سال کے ہر دن یاد رکھنا ہوگا، نہ کہ صرف یومِ مئی پر۔



