
جے ڈی وینس اور نیتن یاہو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ، ایران جنگ پر اختلافات سامنے آ گئے
جے ڈی وینس نے بنیامین نیتن یاہو کو ایران جنگ کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا، ٹرمپ کو گمراہ کرنے کا الزام
جے ڈی وینس اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں ایران سے جاری کشیدگی کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کو آسان قرار دینا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو اس میں شامل کرنے کی حکمت عملی حقیقت پسندانہ نہیں تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وینس نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایران میں ممکنہ رجیم تبدیلی کے حوالے سے حد سے زیادہ خوش فہمی کا مظاہرہ کیا اور امریکی قیادت کو ایسے وعدے کیے جو عملی طور پر پورے نہیں ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم نے پہلے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی اور ممکنہ نظام کی تبدیلی نسبتاً آسان ہوگی، تاہم امریکی نائب صدر اس صورتحال کی پیچیدگیوں سے بخوبی آگاہ تھے۔
مزید برآں، جے ڈی وینس اس وقت ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ علی خامنہ ای کی موت کے باوجود ایران میں حکومتی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوا ہے۔
ادھر ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ اس ٹیلی فون کال کے بعد اسرائیلی میڈیا میں اس گفتگو کے حوالے سے متضاد معلومات سامنے آئیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ وینس نے فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد پر بھی نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان خبروں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ ممکنہ طور پر یہ بیانیہ امریکی نائب صدر کو متنازع بنانے کے لیے گھڑا گیا ہو سکتا ہے۔







