
تابش قیوم :ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ
23 مارچ برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جس نے ان کی سیاسی جدوجہد کو واضح سمت دی اور ایک آزاد وطن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی بنیاد فراہم کی۔ یہ دن اس عزم، شعور اور اجتماعی بیداری کی علامت ہے جو مسلمانوں نے اپنی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے اختیار کیا۔ ہر سال پاکستان میں یہ دن قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے، اور قوم اپنے ان اسلاف کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت ایک آزاد ریاست کا قیام ممکن ہوا۔ یومِ پاکستان نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ یہ ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنے، حال کو سنوارنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔
برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ ایک طویل عرصے تک مسلمان اس خطے میں اقتدار، علم اور تہذیب کے مراکز رہے اور انہوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ لیکن 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ برطانوی حکومت نے اس جنگ کے بعد مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور انہیں سیاسی، تعلیمی اور معاشی میدان میں کمزور کرنے کی پالیسی اپنائی۔ اس کے نتیجے میں مسلمان پیچھے رہ گئے اور انہیں اپنی بقا اور شناخت کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہوگئے۔ اس صورتحال نے مسلم قیادت کو یہ احساس دلایا کہ اگر انہوں نے منظم اور مربوط جدوجہد نہ کی تو وہ مزید زوال کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اسی احساس کے تحت 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ اس جماعت کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ اور انہیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ مسلم لیگ نے نہ صرف مسلمانوں کی نمائندگی کی بلکہ انہیں ایک قوم کے طور پر منظم بھی کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جماعت مسلمانوں کی سب سے مؤثر سیاسی قوت بن کر ابھری اور اس نے برصغیر کے مسلمانوں کے مستقبل کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کیا۔
مسلمانوں کی اس سیاسی جدوجہد میں دو قومی نظریہ بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ اس نظریے کے مطابق ہندو اور مسلمان مذہب، ثقافت، تہذیب اور معاشرتی اقدار کے لحاظ سے دو الگ قومیں ہیں۔ ان کے عقائد، روایات اور طرزِ زندگی میں بنیادی فرق موجود ہے، اس لیے ایک مشترکہ سیاسی نظام میں مسلمانوں کے لیے اپنی شناخت اور حقوق کا تحفظ مشکل ہو سکتا تھا۔ اسی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کے قیام کا تصور پیش کیا گیا تاکہ مسلمان اپنے اصولوں کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔
اس نظریاتی جدوجہد کو عملی شکل 23 مارچ 1940 کو ملی جب لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ایک اہم قرارداد پیش کی گئی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ برصغیر کے ان علاقوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، انہیں آزاد اور خودمختار ریاستوں کی شکل دی جائے۔ یہی قرارداد بعد میں قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی اور اس نے مسلمانوں کی جدوجہد کو ایک واضح سمت فراہم کی۔
اس عظیم تحریک میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ انہوں نے غیر معمولی سیاسی بصیرت، حکمت عملی اور عزم کے ساتھ مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ شعور دیا کہ آزادی اور خودمختاری کے بغیر ان کی قومی شناخت محفوظ نہیں رہ سکتی۔ ان کی قیادت میں مسلم لیگ ایک مضبوط اور منظم تحریک بن گئی، جس نے لاکھوں مسلمانوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیا۔
دیگر رہنماؤں کا کردار بھی اس جدوجہد میں نہایت اہم تھا۔ علامہ محمد اقبال نے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کیا اور ایک علیحدہ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔ لیاقت علی خان اور دیگر قائدین نے بھی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان سب کی مشترکہ جدوجہد نے تحریکِ پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
1940 سے 1947 تک کا عرصہ برصغیر کی تاریخ کا نہایت اہم دور تھا۔ اس دوران مسلمانوں نے سیاسی جدوجہد، انتخابات اور عوامی تحریکوں کے ذریعے اپنے مطالبے کو مزید مضبوط کیا۔ بالآخر برطانوی حکومت کو برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ کرنا پڑا، اور 14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ یہ ایک غیر معمولی تاریخی واقعہ تھا جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ ہجرت کے دوران لاکھوں افراد نے اپنے گھر بار چھوڑے، بے شمار خاندان بچھڑ گئے اور ہزاروں افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
قیام پاکستان کے بعد ملک کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ نوزائیدہ ریاست کو مہاجرین کی آبادکاری، انتظامی مسائل اور معاشی مشکلات جیسے بڑے مسائل درپیش تھے۔ اس کے باوجود قوم نے عزم و حوصلے کے ساتھ ان مشکلات کا مقابلہ کیا اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش جاری رکھی۔ 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا۔ اس طرح اس دن کو مزید تاریخی اہمیت حاصل ہوئی اور یہ یومِ پاکستان کے طور پر منایا جانے لگا۔
ہر سال 23 مارچ کو ملک بھر میں یومِ پاکستان قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن میں قومی پرچم کشائی، فوجی پریڈ، تعلیمی اداروں میں تقاریب اور سیمینار شامل ہوتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ اور نظریاتی بنیادوں سے آگاہ کرنا اور ان میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔
تاہم آج کے پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ ہماری اجتماعی توجہ کے متقاضی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام اور داخلی انتشار ان مسائل میں سرفہرست ہیں۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہوتا ہے، لیکن جب یہ شدت اختیار کر کے دشمنی اور عدم برداشت میں بدل جائے تو اس کے منفی اثرات پورے نظام پر پڑتے ہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی، سیاسی تنازعات اور پالیسیوں کے عدم تسلسل نے قومی ترقی کو متاثر کیا ہے اور اس کا براہِ راست اثر معیشت اور عوامی اعتماد پر پڑا ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی تقسیم اور عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی تلخی نے معاشرے میں برداشت اور رواداری کو کمزور کیا ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں اختلاف رائے کے باوجود احترام اور مکالمے کی فضا قائم رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری اور عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال بھی پاکستان کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم داخلی استحکام کو مضبوط کریں اور قومی اتحاد کو فروغ دیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس بے پناہ امکانات موجود ہیں، جن میں نوجوان آبادی، قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت شامل ہیں۔ اگر ان صلاحیتوں کو درست حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو ملک ترقی کی نئی منزلیں حاصل کر سکتا ہے۔
ان تمام حالات میں سب سے اہم ضرورت اتحاد اور یکجہتی کی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسائل کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ اجتماعی کوشش اور باہمی تعاون میں ہے۔ سیاست کو بھی عوامی خدمت، دیانت داری اور قومی مفاد کے اصولوں پر استوار کرنا ہوگا تاکہ ملک کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
پاکستان کے مستقبل کی تعمیر میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تعلیم، تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور محنتی نوجوان ہی کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔
23 مارچ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ مقصد کے ذریعے ہی ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ان کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو ہم ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں "ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط” کے سنہری اصولوں کو اپنانا ہوگا اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔
یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اگر ایک منتشر قوم متحد ہو کر ایک آزاد وطن حاصل کر سکتی ہے تو آج ایک بڑی اور طاقتور قوم ہو کر ہم اپنے مسائل پر قابو کیوں نہیں پا سکتے؟ ہمیں اجتماعی شعور، ذمہ داری اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی ان قربانیوں کا اصل تقاضا ہے جو ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد وطن کے لیے دیں۔
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال )
