
ایران کا دعویٰ: جنگ کا توازن بدل رہا ہے، اسرائیلی دفاعی نظام کمزور
پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا دعویٰ، امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ، اسرائیل کا 92 فیصد میزائل روکنے کا مؤقف
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جاری کشیدگی میں جنگ کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور Israel کا فضائی دفاعی نظام دباؤ کا شکار ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق دیمونا، بئر السبع اور ایلات کے علاقوں میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں امریکی توانائی تنصیبات کو ہدف بنایا جائے گا۔ ختم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے بیان میں کہا گیا کہ ممکنہ کارروائیوں میں آئی ٹی انفراسٹرکچر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ایران کے وزیر توانائی نے بتایا کہ حالیہ حملوں کے باعث ملک کے پانی اور بجلی کے نظام کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق پانی کی فراہمی اور صفائی کے متعدد مراکز متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کچھ اہم نیٹ ورکس جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ متاثرہ تنصیبات کی مرمت اور بحالی کے لیے کام جاری ہے تاکہ بنیادی سہولیات کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔
ادھر Israel Defense Forces کا مؤقف ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی جانب سے داغے گئے تقریباً 400 میزائلوں میں سے 92 فیصد کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔







