
ایران میں پرائمری اسکول پر حملہ: اقوامِ متحدہ نے امریکی و اسرائیلی کارروائی کی تحقیقات شروع کر دیں
جنیوا میں بیان: ابتدائی شواہد شہری ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہیں، حملے کی ذمہ داری تاحال غیر واضح
ایران میں مبینہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے روز ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے پر اقوامِ متحدہ نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
جنیوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے United Nations Fact-Finding Mission کے رکن Max du Plessis نے بتایا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اسکول پر یکے بعد دیگرے دو میزائل حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 170 سے زائد اساتذہ اور طالبات جاں بحق ہوئیں۔ ان دعوؤں نے عالمی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کی 5 مارچ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوجی تفتیش کار اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ حملہ امریکی افواج کی جانب سے ہوا ہو سکتا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی محکمہ دفاع Pentagon نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کو مزید وسعت دے دی ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
میکس ڈو پلیسس کے مطابق ابتدائی شواہد ایسے ہیں جو ایران کی جانب سے پیش کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں کی ہلاکت کے پیش نظر ایک شفاف، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہایت ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس حملے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران ہونے والے سب سے سنگین شہری ہلاکتوں میں شمار ہو سکتا ہے۔
فی الحال عالمی برادری کی نظریں تحقیقات کے حتمی نتائج پر مرکوز ہیں، جو اس واقعے کی اصل حقیقت کو سامنے لانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔







