ٹائٹلعالمی امور

برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا: وزیراعظم کیئر اسٹارمر

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کام جاری، جنگ کے خاتمے کو مہنگائی میں کمی کا تیز ترین حل قرار

Keir Starmer نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ Strait of Hormuz کو کھولنا فوری ترجیح ہونی چاہیے۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا آسان کام نہیں، تاہم برطانیہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ خطے میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت توانائی کی فراہمی اور صارفین کے تحفظ کے لیے متعلقہ کمپنیوں کو قانونی ہدایات جاری کر رہی ہے تاکہ موجودہ صورتحال میں عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کیئر اسٹارمر کے مطابق جنگ کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں سفارتی معاہدہ ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم حکومت کمپنیوں کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ اس بحران کا فائدہ اٹھا کر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ گھریلو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے حکومت ہیٹنگ آئل کی مد میں 53 ملین پاؤنڈ فراہم کرے گی تاکہ توانائی کے بڑھتے اخراجات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ہی مہنگائی کو کم کرنے کا تیز ترین راستہ ہے اور آنے والا وقت بتائے گا کہ اس بحران پر برطانیہ کا مؤقف درست تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کے باعث تقریباً ایک ہزار برطانوی شہری وطن واپس آ چکے ہیں، جبکہ وہ جلد Volodymyr Zelenskyy سے ملاقات بھی کریں گے تاکہ عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button