ٹائٹلعالمی امور

جرمنی کا امریکا کو دو ٹوک جواب: ایران کے خلاف فوجی تعاون سے انکار

جرمن وزیر دفاع کا مؤقف، آبنائے ہرمز میں چند یورپی جنگی جہاز امریکی بحریہ سے زیادہ مؤثر نہیں ہوسکتے، نیٹو کی شمولیت کا بھی امکان رد

جرمنی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں تعاون کی درخواست کو مسترد کردیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر یورپی مؤقف واضح ہوگیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جرمن وزیر دفاع بورس پستوریئس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس درخواست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کے محدود فوجی وسائل آبنائے ہرمز میں وہ کردار ادا نہیں کرسکتے جو پہلے ہی طاقتور امریکی بحریہ انجام دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی توقعات غیر حقیقی ہیں۔ اگر ایک یا دو یورپی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں بھیج بھی دیے جائیں تو اس سے خطے کی صورتحال میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔

جرمن وزیر دفاع نے مزید کہا کہ یہ تنازع جرمنی یا یورپ کی جنگ نہیں ہے اور نہ ہی اس کا آغاز یورپی ممالک نے کیا۔ ان کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا نیٹو اتحاد سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں بنتا۔

دوسری جانب جرمن چانسلر کے ترجمان اسٹیفن کونیلیوس نے بھی واضح کیا کہ نیٹو بنیادی طور پر علاقائی دفاعی اتحاد ہے اور موجودہ صورتحال میں اس کی تعیناتی کے لیے درکار قانونی مینڈیٹ موجود نہیں۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی ممکنہ زمینی کارروائیاں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔ جرمنی اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے آغاز کو مثبت پیش رفت سمجھے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو کے رکن ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے امریکا کی مدد نہیں کرتے تو اس اتحاد کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button