
آبنائے ہرمز پر کشیدگی، ایران کا امریکا پر چین سے مدد مانگنے کا الزام
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی سیکیورٹی نظام کمزور ہو چکا، خطے کے ممالک غیر ملکی افواج کو نکالنے پر غور کریں
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ United States اب Strait of Hormuz کی سیکیورٹی کے معاملے پر China سمیت دیگر ممالک سے مدد مانگنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکا کی سیکیورٹی حکمت عملی کمزور پڑ چکی ہے اور اس کے حفاظتی نظام میں کئی خامیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ سیکیورٹی انتظامات مسائل حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اب دنیا کے مختلف ممالک، بالخصوص چین سے درخواستیں کر رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں اس کی مدد کریں۔
انہوں نے خطے کے ہمسایہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں سے غیر ملکی افواج کو نکالنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں۔ عباس عراقچی کے مطابق ان غیر ملکی قوتوں کی بنیادی ترجیح صرف Israel کے مفادات کا تحفظ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سوا باقی تمام ممالک کے لیے کھلی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ جمعے کے روز امریکا نے Ras Al Khaimah اور Dubai کے قریب علاقوں سے حملے کیے جبکہ پڑوسی ممالک سے ہائی موبیلیٹی راکٹ سسٹم کے ذریعے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی کی سپلائی اور خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اس معاملے پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔







