
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے بالفور اعلامیے پر معافی کا مطالبہ
برطانیہ کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ اور لارڈز کا خط، فلسطینیوں کے ساتھ تاریخی ناانصافیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ
بالفور اعلامیے پر برطانوی وزیراعظم سے معافی کا مطالبہ
برطانیہ میں متعدد اراکین پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے ارکان نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاریخی بالفور اعلامیے پر سرکاری طور پر معافی مانگیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق درجنوں قانون سازوں نے وزیراعظم کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 1917 میں جاری کیے گئے اس اعلامیے کے نتیجے میں اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار ہوئی اور بعد ازاں فلسطینی عوام کو شدید مشکلات اور بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ 1948 کی عرب اسرائیل جنگ، جسے فلسطینی تاریخ میں نقبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کے دوران لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے محروم ہو گئے۔ اس دوران تقریباً سات لاکھ فلسطینیوں کی بے دخلی اور بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔
اراکین پارلیمنٹ نے اپنے خط میں 1917 سے 1948 کے عرصے کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو تاریخی ناانصافی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے اثرات آج بھی خطے میں کشیدگی کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف ادوار میں آنے والی برطانوی حکومتیں اس تاریخی ریکارڈ کو تسلیم کرنے اور باضابطہ معافی مانگنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔
اس خط پر دستخط کرنے والے 45 اراکین میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں، جن میں لبرل ڈیموکریٹس کی لیلیٰ موران، لیبر پارٹی کی نادیہ وِٹوم اور گرین پارٹی کی کارلا ڈینیئر بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام گزشتہ برس فلسطینی نژاد کاروباری شخصیت بشار المصری کی جانب سے شروع کی گئی برٹش اوز فلسطین مہم کے بعد سامنے آیا۔ اس مہم میں برطانیہ سے فلسطینیوں کے ساتھ تاریخی ناانصافیوں پر معافی مانگنے اور ممکنہ ہرجانے کے مطالبات بھی کیے گئے تھے۔
مہم کے قانونی مشیر وکٹر کتان کا کہنا ہے کہ معافی کی اہمیت زیادہ تر علامتی ہوگی اور اس کا بنیادی مقصد تاریخی حقیقت کو تسلیم کروانا ہے، نہ کہ مالی معاوضہ حاصل کرنا۔







