ٹائٹلکاروبار

ایران، امریکا اور اسرائیل تنازع: عالمی معیشت، فضائی سفر اور صنعتوں پر سنگین اثرات

جنگ کے باعث تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ، ہزاروں پروازیں منسوخ، سیاحت، فیشن اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبے دباؤ کا شکار

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع نے عالمی کاروباری اور تجارتی ماحول کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ، خام مال کی فراہمی میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے اثرات خوراک، گاڑیوں کے پرزہ جات، ٹیکنالوجی اور فیشن سمیت کئی عالمی صنعتوں پر پڑ رہے ہیں۔

فضائی سفر میں بڑا بحران

جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے بڑے حصوں کی فضائی حدود بند ہونے سے عالمی فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ خطے کے بڑے ہوائی اڈوں، خصوصاً دبئی اور قطر کے مرکزی ایئرپورٹس پر سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 ہزار پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جسے کورونا وبا کے بعد فضائی سفر کے شعبے کا سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے۔ ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے ہیں جبکہ کئی افراد خلیجی ممالک سے نکلنے کے لیے زمینی راستوں سے سفر کر کے ریاض پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایئر لائنز کو مالی نقصان

خلیجی خطے کی فضائی حدود بند ہونے سے عالمی ایئر لائنز کے پروازوں کے نیٹ ورک متاثر ہوئے ہیں۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان پروازوں کے کرائے تیزی سے بڑھ گئے ہیں جبکہ کئی ایئر لائنز نے اپنے روٹس تبدیل کر دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد جیٹ فیول کی قیمتیں تقریباً دوگنا ہو چکی ہیں، جس سے فضائی کمپنیوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

دبئی کی سیاحت کو خطرات

موجودہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو محفوظ سیاحتی مرکز بنانے کے لیے کی گئی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دبئی اور ابوظبی جیسے بڑے سیاحتی شہروں کی سیاحت سے خطے کو ہر سال تقریباً 367 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

جنگی صورتحال کے باعث دبئی کے کئی بڑے شاپنگ سینٹرز اور اسٹورز عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں یا محدود عملے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

دفاعی صنعت کی سرگرمیاں بڑھ گئیں

جنگی کارروائیوں کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا جن میں ٹام ہاک کروز میزائل، اسٹیلتھ جنگی طیارے اور جدید ڈرونز شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے جنگی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کی مدد بھی حاصل کی، جس میں جدید اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔

دھاتوں کی عالمی سپلائی متاثر

خلیجی خطہ عالمی ایلومینیئم پیداوار کا تقریباً 8 فیصد فراہم کرتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث دھاتوں کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق قطر کے ایلومینیئم پلانٹ نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جبکہ بحرین نے کچھ شپمنٹس روکنے کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ایلومینیئم کی قیمتیں بڑھنے لگی ہیں۔

فیشن اور ملبوسات کی صنعت بھی متاثر

جنوبی ایشیا کے ممالک پاکستان، بھارت اور بنگلادیش عالمی فیشن برانڈز کے لیے بڑے پیداواری مراکز ہیں، لیکن فضائی کارگو میں رکاوٹ کے باعث کئی عالمی برانڈز کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق متعدد بین الاقوامی فیشن کمپنیوں کی تیار شدہ مصنوعات ایئرپورٹس پر پھنس گئی ہیں جس سے سپلائی چین میں خلل پیدا ہو گیا ہے۔

ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے خدشات

جنوبی کوریا کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والی اہم گیس ہیلیئم کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی دوران خطے میں کچھ ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت، فضائی سفر، ٹیکنالوجی اور فیشن سمیت کئی اہم شعبوں کو بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button