ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

قومی خودمختاری اور وقار کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران خطے میں امن چاہتا ہے لیکن ایران اسرائیل کشیدگی: جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی اصل فریقوں سے ہونی چاہیے

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کے معاملے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کے لیے کوششیں اُن ممالک کی جانب سے ہونی چاہئیں جنہوں نے اس تنازع کو جنم دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ کچھ ممالک نے جنگ بندی اور ثالثی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں، تاہم اس معاملے میں ذمہ دار فریقوں کا کردار اہم ہونا چاہیے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران واضح طور پر خطے میں دیرپا امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر ایرانی قوم کی عزت اور ملک کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو اس کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی اُن فریقوں کی جانب سے ہونی چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کمزور سمجھتے ہوئے اس تنازع کو ہوا دی۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد جاری جنگ اب ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں ایران میں اب تک 1332 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button