پاکستانٹائٹل

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: پاکستان کا “آپریشن غضب للحق” جاری، متعدد افغان چوکیاں تباہ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائیہ اور بری افواج کی مشترکہ کارروائیاں، سرحدی خلاف ورزیوں کا مؤثر جواب؛ مختلف سیکٹرز میں جھڑپیں، سرکاری شخصیات کا سخت مؤقف

پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے “آپریشن غضب للحق” کے نام سے جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں افغان سرحدی فورسز کی مبینہ بلااشتعال فائرنگ اور جارحانہ اقدامات کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائیہ اور بری افواج نے مختلف سرحدی مقامات پر اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں متعدد چوکیاں اور عسکری تنصیبات شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق درجنوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ کئی سرحدی پوسٹیں تباہ یا زیرِ کنٹرول آ گئیں۔ بعض مقامات پر پاکستانی پرچم لہرانے کی بھی اطلاعات ہیں۔


فضائی کارروائیاں اور اہم اہداف

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے مشرقی افغانستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ اطلاعات کے مطابق کابل، قندھار، پکتیا اور ننگرہار میں عسکری تنصیبات، اسلحہ ڈپو اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ بریگیڈ اور کور ہیڈکوارٹرز کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ ایک بڑے ایمونیشن ڈپو کی تباہی کی اطلاع دی گئی ہے۔


زمینی جھڑپیں: مختلف سیکٹرز میں کارروائیاں

سرحدی علاقوں میں ڈرونز اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا گیا۔ جنوبی وزیرستان میں مبینہ طور پر ایک اہم پوسٹ کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح چترال سیکٹر، باجوڑ، تیراہ خیبر اور ضلع مہمند میں بھی بھرپور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں افغان فورسز کی جانب سے کواڈ کاپٹر حملوں کی کوشش کی گئی جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنایا گیا۔


سول آبادی اور نقصانات کی اطلاعات

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی فائرنگ کے نتیجے میں باجوڑ کے بعض دیہی علاقوں میں مارٹر گولے گرے، جس سے متعدد شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ایک مسجد کی عمارت کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے، جس پر حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔


حکومتی ردعمل اور بیانات

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سرحدی حملوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ملک کا دفاع ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔


واضح پیغام

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی افواج کسی بھی سرحدی خلاف ورزی یا اشتعال انگیزی کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن کا قیام ترجیح ہے، تاہم ملکی خودمختاری پر کسی قسم کی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button