
وائٹ ہاؤس نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے آئل ٹینکرز کو تحفظ دینے کے دعوے کو مسترد کر دیا
وزیرِ توانائی کے سوشل میڈیا بیان کو غلط معلومات قرار، ایران نے اسے عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کرنے کی کوشش کہا
آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کو امریکی فوجی تحفظ دینے کا دعویٰ مسترد
امریکا میں وائٹ ہاؤس نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی بحریہ نے Strait of Hormuz میں ایک آئل ٹینکر کو فوجی تحفظ فراہم کرتے ہوئے محفوظ راستہ دیا۔
یہ دعویٰ ابتدائی طور پر امریکی وزیرِ توانائی Chris Wright نے سوشل میڈیا پر کیا تھا۔ تاہم یہ پیغام تقریباً آدھے گھنٹے بعد بغیر کسی وضاحت کے حذف کر دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی وضاحت
بعد ازاں میڈیا بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری Karoline Leavitt نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ نے فی الحال کسی بھی آئل ٹینکر یا تجارتی جہاز کو فوجی اسکورٹ فراہم نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر Donald Trump ضرورت پڑنے پر ایسا فیصلہ کر سکتے ہیں، لیکن اس وقت تک ایسا کوئی آپریشن شروع نہیں کیا گیا۔
ایران کا ردعمل
ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ Abbas Araghchi نے امریکی بیان کو "جعلی خبر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دعووں کا مقصد عالمی تیل منڈیوں کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
Strait of Hormuz دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو Iran، Oman اور United Arab Emirates کے درمیان واقع ہے۔ عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
حالیہ کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے پر تجارتی سرگرمیوں میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اور Israel کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
امریکی فوجی حکام کا مؤقف
امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار Dan Caine نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کو تاحال آئل ٹینکرز کے تحفظ کے لیے کوئی باضابطہ مشن تفویض نہیں کیا گیا۔







