
پُراسرار ڈرون امریکی جوہری بمبار بیس تک جا پہنچا، سیکیورٹی الرٹ جاری
بارکسڈیل ایئر فورس بیس کے نزدیک نامعلوم ڈرون دیکھے جانے کے بعد فورس پروٹیکشن کنڈیشن “چارلی” نافذ، تحقیقات شروع
امریکی فوجی اڈے کے قریب پراسرار ڈرون، حکام الرٹ
امریکا میں ایک اہم فوجی تنصیب کے قریب نامعلوم ڈرون کی موجودگی نے سیکیورٹی حکام کو الرٹ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پراسرار ڈرون کو Barksdale Air Force Base کے قریب پرواز کرتے دیکھا گیا، جس کے بعد فوجی حکام نے فوری حفاظتی اقدامات بڑھا دیے۔
حکام کے مطابق اس اڈے پر B‑52 Stratofortress بمبار طیارے تعینات ہیں جو جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی وجہ سے واقعے کو انتہائی حساس سمجھا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی الرٹ میں اضافہ
ڈرون دیکھے جانے کے بعد فوجی حکام نے سیکیورٹی کی سطح بڑھاتے ہوئے فورس پروٹیکشن کنڈیشن چارلی نافذ کر دی ہے۔ یہ سطح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کسی ممکنہ خطرے کا خدشہ موجود ہے اور حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
کشیدہ عالمی صورتحال کے تناظر میں واقعہ
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور Israel کی جانب سے Iran کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔
ماضی میں ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی استعمال کی، جن میں خودکش ڈرون بھی شامل تھے۔
ڈرون کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری
فوجی حکام کے مطابق اس پراسرار ڈرون کی شناخت اور اس کے آپریٹر کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ڈرون کو قبضے میں لے لیا گیا ہے یا وہ علاقے سے نکل گیا۔
ایک فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ کسی بھی فوجی اڈے یا حساس تنصیب کے اوپر بغیر اجازت ڈرون اڑانا امریکی ریاستی اور وفاقی قوانین کے تحت جرم ہے، جس پر بھاری جرمانہ اور قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
B-52 بمبار طیاروں کی اہمیت
واضح رہے کہ B‑52 Stratofortress امریکی فضائیہ کے طاقتور ترین بمبار طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ طیارے تقریباً 8800 میل تک بغیر ایندھن بھرے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور تقریباً 70 ہزار پاؤنڈ تک جوہری یا روایتی ہتھیار لے جا سکتے ہیں، جس کے باعث ایسے فوجی اڈوں کی سیکیورٹی کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔







