
ایران امریکا کشیدگی: مہنگے دفاعی میزائل تیزی سے ختم ہونے کا خدشہ، جنگ کی لاگت میں تیزی سے اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے سستے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اسرائیل کے مہنگے دفاعی نظام پر بھاری پڑ سکتے ہیں
ایران امریکا جنگ: مہنگے دفاعی میزائل سسٹمز پر دباؤ بڑھنے لگا
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے چند دن بعد ہی دفاعی نظام سے متعلق خدشات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے مہنگے دفاعی میزائل سسٹمز، خاص طور پر پیٹریاٹ اور ٹوماہاک، تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں جس کے باعث ان کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ پیشگی فضائی کارروائی کی جس میں ایران کی فوجی تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ فوجی عہدیدار مارے گئے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایرانی قیادت کو کمزور کر کے ممکنہ طور پر حکومت کی تبدیلی کے لیے حالات پیدا کرنا تھا۔ تاہم جنگ کے ابتدائی چار دنوں میں ایران کی جانب سے شدید اور منظم جوابی حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ
سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ ایران بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کر کے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ برقرار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں ہتھیاروں کی قیمت بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آئی ہے۔
-
امریکی پیٹریاٹ یا ٹوماہاک میزائل کی قیمت تقریباً 10 سے 30 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔
-
اس کے مقابلے میں ایرانی بیلسٹک میزائل کی لاگت 8 سے 10 لاکھ ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہے۔
اسی طرح ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
-
امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کی قیمت تقریباً 3 کروڑ ڈالر ہے۔
-
جبکہ ایران کا شاہد ڈرون صرف 30 سے 50 ہزار ڈالر میں تیار کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہی مالی فرق امریکا اور اسرائیل کے لیے جنگی حکمت عملی کو مشکل بنا سکتا ہے۔
جنگی اخراجات میں تیزی سے اضافہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں امریکی فوج کو تقریباً 779 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑے۔
صرف تین دن کے اندر یہ اخراجات بڑھ کر 1.24 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو طویل جنگ کے دوران مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
پیٹریاٹ میزائل ذخائر میں کمی کا خدشہ
راجیو اگروال کے مطابق جنگی علاقے میں امریکا اور اسرائیل کے پاس پیٹریاٹ میزائلوں کی تعداد تقریباً 600 سے 800 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ایک آنے والے میزائل کو روکنے کے لیے عموماً 4 سے 6 انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے جاتے ہیں۔
اب تک اندازاً 150 سے 200 میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حملوں کی یہی شدت برقرار رہی تو اگلے 4 سے 7 دن میں دفاعی میزائلوں کی کمی پیدا ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
اسی دوران بین الاقوامی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکا جاپان اور جنوبی کوریا سے اضافی پیٹریاٹ میزائل منتقل کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔
ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس 20 ہزار سے 50 ہزار تک مختلف اقسام کے میزائل موجود ہیں جبکہ ہزاروں ڈرون بھی اس کے اسلحہ ذخیرے میں شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ہتھیار پہاڑی علاقوں میں زیرِ زمین محفوظ مقامات پر رکھے گئے ہیں جہاں فضائی حملوں کی رسائی مشکل سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمت عملی کا مقصد مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام کو مصروف رکھنا ہے۔
جنگ کے سیاسی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنما داخلی سیاسی دباؤ اور اہم سیاسی مراحل کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی اور کوئی واضح کامیابی حاصل نہ ہوئی تو اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ جنگ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم ایران کی حکمت عملی نے امریکا اور اسرائیل کے لیے اس تنازع کو توقع سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔







