
ایران-امریکا جوہری مذاکرات کا نیا دور، ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام مرکزِ توجہ
جنیوا میں بات چیت کے دوران ایران کے میزائل ذخیرے، رینج اور خطے پر ممکنہ اثرات پر بحث تیز
Iran اور United States کے درمیان جنیوا میں جوہری مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس دور میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی دفاعی صلاحیتیں اہم نکات میں شامل ہیں۔
مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران کے میزائل پروگرام کو علاقائی استحکام اور ممکنہ جوہری ترسیل کے تناظر میں دیکھتے آئے ہیں، جبکہ ایرانی حکام اسے اپنی دفاعی حکمت عملی کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔
بیلسٹک میزائل کیا ہوتا ہے؟
بیلسٹک میزائل بنیادی طور پر راکٹ ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ہوتا ہے جو زمین سے فضا میں بلند ہو کر مخصوص راستے سے گزرتا ہوا اپنے ہدف تک پہنچتا ہے۔ یہ میزائل روایتی دھماکا خیز مواد کے علاوہ نظریاتی طور پر کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری مواد لے جانے کی صلاحیت بھی رکھ سکتا ہے۔
ان میزائلوں کو عموماً چار بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
-
شارٹ رینج بیلسٹک میزائل
-
میڈیم رینج بیلسٹک میزائل
-
انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل
-
بین البراعظمی بیلسٹک میزائل
ایران کے میزائل ذخیرے سے متعلق عالمی مؤقف
امریکی انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایران کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ حد تقریباً 2 ہزار کلومیٹر ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق یہ رینج خطے میں ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے رکھی گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فاصلے کے ساتھ ایران اسرائیل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میزائل تنصیبات اور ذخیرہ
رپورٹس کے مطابق میزائلوں کا بڑا حصہ تہران اور اس کے گردونواح میں موجود ہے، جبکہ ملک کے مختلف صوبوں میں کم از کم پانچ ایسے مقامات بتائے جاتے ہیں جہاں میزائل ذخیرہ کیے گئے ہیں، جن میں کرمانشاہ اور سمنان بھی شامل ہیں۔
Center for Strategic and International Studies کے تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے متعدد میزائل موجود ہیں۔
ایرانی میزائلوں کی اقسام اور رینج
دستیاب رپورٹس کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام میں مختلف ماڈلز شامل ہیں، جن میں:
-
سجیل: تقریباً 2,000 سے 2,500 کلومیٹر تک رینج
-
عماد: تقریباً 1,700 سے 2,000 کلومیٹر تک
-
غدر: تقریباً 2,000 کلومیٹر
-
شہاب-3: تقریباً 800 سے 1,300 کلومیٹر (مختلف اندازوں کے مطابق)
-
خرمشہر: تقریباً 2,000 کلومیٹر
-
ہوی زہ: تقریباً 1,350 کلومیٹر
-
خیبر: تقریباً 2,000 کلومیٹر
-
حاج قاسم: تقریباً 1,400 کلومیٹر
-
شہاب-1: تقریباً 300 کلومیٹر
-
ذوالفقار: تقریباً 700 کلومیٹر
واشنگٹن میں قائم Arms Control Association سمیت مختلف تحقیقی ادارے ایرانی میزائل پروگرام کا باقاعدگی سے تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔
علاقائی اور سفارتی تناظر
مذاکرات کے موجودہ دور میں میزائل پروگرام کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جوہری معاہدے کے ساتھ ساتھ دفاعی اور اسٹریٹیجک معاملات بھی زیر بحث آ رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، جبکہ مغربی ممالک شفافیت اور حدود کے تعین پر زور دیتے ہیں۔
جنیوا مذاکرات کے آئندہ مراحل میں یہ واضح ہوگا کہ آیا میزائل پروگرام کسی ممکنہ سفارتی سمجھوتے کا حصہ بنتا ہے یا نہیں۔







