
ایران کا دو ٹوک مؤقف: یورینیم افزودگی کا حق کوئی نہیں چھین سکتا
جنیوا مذاکرات اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد تہران کا سخت ردِعمل
ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسے یورینیم افزودگی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ Mohammad Eslami، جو ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ جوہری صنعت کی بنیاد ہی افزودگی پر ہے اور اس کے بغیر جوہری ایندھن کی تیاری ممکن نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Donald Trump نے حالیہ مذاکرات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام اور مؤقف
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں محمد اسلامی نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی قوانین کے مطابق جاری ہے اور اسے پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اسلامی جمہوریہ کو اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے سے نہیں روک سکتا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کی سرگرمیاں International Atomic Energy Agency (IAEA) کے ضوابط کے مطابق ہیں، جبکہ مغربی ممالک تہران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
جنیوا مذاکرات اور عمان کی ثالثی
حالیہ بیان تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد سامنے آیا، جو Geneva میں منعقد ہوا۔ اس سے قبل ابتدائی رابطہ Oman میں ہوا تھا۔
یہ پیش رفت ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور محدود جنگی صورتحال کے بعد پہلا بڑا سفارتی رابطہ تصور کی جا رہی ہے، جس میں امریکا نے بھی اسرائیل کے ساتھ محدود شمولیت اختیار کی تھی اور ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ٹرمپ کا انتباہ اور ڈیگو گارشیا کا ذکر
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ اگر کوئی نیا معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا فوجی آپشن پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے بحرِ ہند میں واقع Diego Garcia کے فضائی اڈے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ممکنہ حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔
امریکا طویل عرصے سے ایران سے "صفر افزودگی” کا مطالبہ کرتا آیا ہے، جبکہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اسرائیل بھی ان نکات کو شامل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔
عالمی خدشات اور خطے کی صورتحال
مغربی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہی ہیں، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام توانائی اور سائنسی تحقیق جیسے پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم بیانات اور انتباہات نے مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مذاکرات کا رخ خطے کے امن اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔







