
2025 عرب اوپینین انڈیکس: 87 فیصد عرب شہری اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مخالف
عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی کے سروے میں 15 ممالک کے 40 ہزار سے زائد افراد کی رائے شامل، لیبیا اور اردن میں مخالفت کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ
Arab Center Washington DC کی جانب سے جاری کردہ تازہ سروے رپورٹ کے مطابق عرب دنیا میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف واضح اکثریت موجود ہے۔ نتائج کے مطابق 87 فیصد شہری اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ صرف 6 فیصد نے اس کی حمایت کی۔
یہ اعداد و شمار 2025 عرب اوپینین انڈیکس کا حصہ ہیں، جسے 2011 سے اب تک نو مرتبہ منعقد کیا جا چکا ہے۔ اس مرحلے میں 15 عرب ممالک کے 40 ہزار سے زائد افراد سے سیاست، معیشت، خارجہ پالیسی اور قومی شناخت جیسے موضوعات پر تفصیلی سوالات کیے گئے۔
تمارا خروب کا بیان
سینٹر کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سینیئر فیلو Tamara Kharoub نے ایک آن لائن ویبینار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مخالفت کی شرح مسلسل بلند سطح پر برقرار ہے۔ ان کے مطابق 2014 کے بعد سے کیے گئے تمام سرویز میں یہی رجحان غالب رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2022 کے مقابلے میں 2025 کے سروے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت میں مزید 2 فیصد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حمایت کرنے والے 6 فیصد افراد میں سے تقریباً نصف نے اپنی حمایت کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط قرار دیا۔
کن ممالک میں سروے کیا گیا؟
سروے میں الجزائر، مصر، عراق، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، موریطانیہ، مراکش، فلسطین، قطر، سعودی عرب، سوڈان، شام اور تیونس شامل تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سب سے زیادہ مخالفت لیبیا (96 فیصد)، اردن (95 فیصد)، کویت (94 فیصد) اور فلسطین (91 فیصد) میں ریکارڈ کی گئی۔
مخالفت کی وجوہات کیا ہیں؟
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت کرنے والے جواب دہندگان نے بنیادی طور پر اس کی پالیسیوں اور فلسطینی علاقوں پر جاری قبضے کو وجہ قرار دیا۔ بیشتر افراد نے اسے نوآبادیاتی، نسلی امتیازی اور توسیع پسندانہ طرز عمل سے تعبیر کیا، جبکہ مذہبی یا ثقافتی دلائل نسبتاً کم سامنے آئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جب تک موجودہ سیاسی صورتحال برقرار رہتی ہے، عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیل سے متعلق علاقائی تاثر
سینٹر کے فلسطین/اسرائیل پروگرام کے سربراہ اور سینیئر فیلو Yousef Munayyer کے مطابق خطے میں اسرائیل کو بڑے پیمانے پر شراکت دار کے بجائے ایک خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور حالیہ برسوں میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 70 فیصد افراد شام اور اسرائیل کے درمیان ایسے کسی امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں جس میں شامی گولان کی واپسی شامل نہ ہو۔
عرب شناخت سے متعلق رجحان
دیگر نتائج کے مطابق 76 فیصد شرکا نے مختلف قومی شناختوں کے باوجود عرب دنیا کو ایک متحد قوم یا مشترکہ عرب شناخت کا حامل قرار دیا، جو خطے میں اجتماعی شعور کے مضبوط ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔







