ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

امریکا کے حملے کی صورت میں تل ابیب کو نشانہ بنانے کی دھمکی، ایران نے ہزار جدید ڈرونز فوج میں شامل کر دیے

علی شمخانی کے مطابق اگر ایران پر حملہ ہوا تو جوابی کارروائی میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکا نے حملہ کیا تو تل ابیب نشانہ بنے گا، ایران کا دوٹوک انتباہ، ہزار جدید ڈرونز فوج میں شامل، عالمی منڈیوں میں ہلچل

ایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران پر کسی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور اور غیر معمولی جواب دیا جائے گا، جس میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنانا بھی شامل ہوگا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری اور سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی کے مطابق امریکا کی جانب سے کسی بھی حملے کو مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ردعمل فوری، جامع اور بے مثال ہوگا۔

اسی دوران ایران نے اپنی عسکری طاقت میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے ایک ہزار جدید جنگی ڈرونز بری فوج کے بیڑے میں شامل کر لیے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ڈرونز میجر جنرل امیر حاتمی کی ہدایت پر فوج میں شامل کیے گئے، جو زمینی فوج کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ڈرونز وزارتِ دفاع کے تعاون سے مقامی ماہرین نے تیار کیے ہیں۔ ان کی تیاری حالیہ علاقائی خطرات اور جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے تجربات کی روشنی میں کی گئی ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یورپی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایران میں عوامی احتجاج کے دوران سخت کریک ڈاؤن کے ردعمل میں کیا گیا، جس کا مقصد تہران کو واضح اور سخت پیغام دینا ہے۔

یورپی یونین کی صدر ارزولا فان ڈیر لاین نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ تاہم ایرانی فوج نے اس فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

ادھر ایران نے امریکا کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ تہران مذاکرات کے لیے واشنگٹن سے رابطے میں ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی شرائط تسلیم کرنا جنگ کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ہوگا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ اگر اسے امریکا کے مجوزہ معاہدے اور فوجی تصادم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو وہ جنگ کو کم نقصان دہ راستہ سمجھے گا، کیونکہ وہ مکمل پسپائی قبول کرنے کو تیار نہیں۔

ان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگیوں کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی واضح طور پر نظر آئے۔ سونے کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور فی اونس سونا 5 ہزار 595 ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسی طرح تیل کی قیمتوں میں بھی 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، برینٹ کروڈ 70.27 ڈالر جبکہ امریکی خام تیل 66.19 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوتا رہا۔

جواب دیں

Back to top button