
شیخ حسینہ کی متنازع ویڈیو شیئر کرنیوالے سابق بنگلا دیشی فضائیہ افسر کی لاش برآمد
میڈیا رپورٹ کے مطابق ان کی لاش 28 اکتوبر کو دریائے تراغ سے برآمد ہوئی
سابق بنگلادیشی فضائیہ کے افسر کے ایم تحسیف سوری بدھ کے روز پُراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق بنگلادیشی فضائیہ کے افسر پر الزام تھا کہ انہوں نے معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی ملک چھوڑنے سے متعلق متنازع ویڈیو اپ لوڈ کی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ان کی لاش 28 اکتوبر کو دریائے تراغ سے برآمد ہوئی، انہوں نے سیاہ قمیص اور سفید پتلون پہن رکھی تھی، وہ ایک روز قبل لاپتہ ہوئے تھے۔
پولیس نے قومی ہنگامی ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی اطلاع کے بعد تقریباً شام ساڑھے 4 بجے ڈھاکا کے علاقے اترخان میں راجباری گھاٹ کے قریب سے 28 سالہ کے ایم تحسیف سوری کی لاش برآمد کی۔
مقتول کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیرِاعظم کی ویڈیو منظرِعام پر آنے کے بعد سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا اور اسی ویڈیو کی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا ہے۔
پولیس نے تاحال کے ایم تحسیف سوری کی موت کی وجہ کی تصدیق نہیں کی، تاہم ان کی کزن موشفیکا جہاں نے الزام عائد کیا ہے کہ شیخ حسینہ کی ویڈیو کی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا۔
کے ایم تحسیف سوری کی موت نے ان سوالات کو بھی دوبارہ اٹھا دیا ہے، جو اس وقت اٹھائے گئے تھے جب انہیں ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کے ایم تحسیف سوری بھارت کے خفیہ ادارے ’را‘کے لیے جاسوسی کرتے ہیں، اس خبر کے بعد حکومت نے ان کا پاسپورٹ 2 سال کے لیے ضبط کر لیا تھا۔
چند ماہ قبل کے ایم تحسیف سوری ایک پوڈکاسٹ میں بھی شریک ہوئے تھے، جہاں انہوں نے مذکورہ اخبار کے خلاف کھل کر بات کی، تاہم انہوں نے بعض اہم معاملات کی جانب اشارہ کرنے کے باوجود ان کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا تھا۔
واضح رہے کہ جون 2024ء میں بنگلا دیش میں پُرتشدد احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد شیخ حسینہ واجد فوجی طیارے میں بھارت فرار ہو گئی تھیں، جہاں وہ اب تک جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں تاہم انہوں نے رواں سال دسمبر میں وطن واپس جانے کا اعلان کر رکھا ہے۔







