
بھارتی انڈر ورلڈ گینگسٹرز جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے جرائم کا نیٹ ورک کیسے چلا رہے ہیں؟
ارون گاولی پر شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے قریبی ساتھی جینت جادھو کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام تھا
بھارت میں کئی خطرناک گینگسٹرز گرفتار ہو کر جیل میں قید ہونے کے باوجود اپنے جرائم پیشہ گروہوں کو جیل کے اندر سے کنٹرول کر رہے ہیں اور باہر اپنے کارندوں سے اپنی مرضی کے جرائم کروا رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا پر شائع ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی جیلیں بعض جرائم پیشہ گروہوں کے لیے ناصرف دشمنوں سے محفوظ پناہ گاہیں بلکہ نئے ارکان بھرتی کرنے اور مجرمانہ کارروائیاں چلانے کا مرکز بھی بن چکی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فلم ’ستیا‘ میں پولیس کمشنر کا ایک مکالمہ اسی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے کہ پولیس جرائم پیشہ افراد کو گرفتار تو کر لیتی ہے لیکن وہ جیل کے اندر بیٹھ کر بھی اپنے گروہ چلاتے رہتے ہیں اور بیرونِ ملک فرار ہونے کے بعد بھی جرائم کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
اداکار ٹائیگر شروف کے گھر پر حالیہ فائرنگ کے واقعے میں بشنوئی گروپ کے مبینہ کردار نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جیل میں قید گینگسٹرز کس طرح باہر جرائم کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لارنس بشنوئی گجرات کی سابرمتی جیل میں بند ہے جبکہ اس کا بھائی انمول بشنوئی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہے، دونوں پر گزشتہ 3 سال کے دوران ممبئی میں ہونے والے متعدد فائرنگ کے واقعات کی منصوبہ بندی اور احکامات دینے کے الزامات ہیں۔
بھارتی وزارتِ داخلہ کی پابندیوں کے باعث تحقیقاتی اداروں کو دونوں تک رسائی اور تحویل حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی جیلوں سے جرائم کا نیٹ ورک چلانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں، ممبئی انڈر ورلڈ کی تاریخ میں ارون گاولی اور اشون نائیک جیسے گینگسٹرز بھی جیل میں رہتے ہوئے اپنے گروہوں کو ہدایات دینے، بھتہ وصول کرنے اور قتل کی وارداتوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
اشون نائیک پر جیل میں رہتے ہوئے اپنی اہلیہ نیتا نائیک کے قتل کا حکم دینے کا الزام بھی لگا تھا، اسے شبہ تھا کہ اس کی اہلیہ کے ایک پولیس اہلکار سے تعلقات ہیں تاہم پولیس عدالت میں یہ الزام ثابت نہ کر سکی اور نائیک بری ہو گیا۔
اسی طرح ارون گاولی پر شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے قریبی ساتھی جینت جادھو کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جادھو نے گاولی کو ایک جیل سے دوسری جیل منتقل کروانے میں کردار ادا کیا تھا جس پر مبینہ طور پر گاولی نے ناراضی میں اس کے قتل کا حکم دیا۔
این ڈی ٹی وی پر شائع خصوصی مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیلوں کے اندر سے جرائم پر مبنی نیٹ ورک چلانے میں بدعنوانی کو اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے، مختلف گینگسٹرز کے گروہ مبینہ طور پر جیل عملے سے رابطے رکھتے تھے اور رشوت و تحائف کے ذریعے خصوصی سہولتیں اور باہر رابطے کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔
بھارتی گینگسٹرز اپنے وکلاء اور قانونی ملاقاتوں کے ذریعے بھی ساتھیوں تک پیغامات پہنچاتے ہیں، ضمانت پر رہا ہونے والے، بری ہونے والے یا عدالت میں پیشی کے لیے باہر جانے والے قیدی بھی پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسمگل کیے گئے موبائل فونز نے یہ رابطے مزید آسان بنا دیے ہیں جن کے ذریعے جیل میں بیٹھے گروہ کے سربراہ اپنے ساتھیوں، بھتہ دینے سے انکار کرنے والے افراد اور میڈیا سے رابطے میں رہتے ہیں۔
مارچ 2023ء میں لارنس بشنوئی نے دورانِ حراست ایک ہندی ٹی وی چینل کو 2 انٹرویوز دیے، پہلا انٹرویو پنجاب پولیس کی تحویل میں جبکہ دوسرا جے پور سینٹرل جیل میں قیام کے دوران دیا گیا۔
2024ء کے وسط میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں لارنس بشنوئی نے سابرمتی جیل سے ویڈیو کال کے ذریعے بیرونِ ملک پیغام دیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی سال ایک قیدی نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ بشنوئی کے پاس موبائل فون موجود ہے اور وہ باہر کی دنیا سے رابطے میں ہے۔
مہاراشٹر میں جیل افسر سواتی ساٹھے نے مختلف جیلوں میں چھاپے مار کر قیدیوں سے موبائل فون بھی برآمد کیے تھے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹائیگر شروف کے گھر پر فائرنگ کے معاملے میں ممبئی پولیس انمول بشنوئی کو تہاڑ جیل سے اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس سے قبل پولیس لارنس بشنوئی کو سابرمتی جیل سے تحویل میں لینے کی کوشش کر چکی ہے تاہم کامیابی نہیں ملی، ممبئی پولیس نے اس سلسلے میں بھارتی وزارتِ داخلہ کو خط بھی لکھا تھا لیکن مطلوبہ اجازت حاصل نہیں ہو سکی۔







