
بجٹ 2026 میں عوام کو حقیقی اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جائے
آئی ایف ایم کی غلامی میں تیار بجٹ عوام کیلئے ریلیف نہیں مزید مشکلات پیدا کریگا۔
امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے وفاقی بجٹ 2026 پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو حقیقی اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر یہ بجٹ مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافے اور عوامی مشکلات میں شدت کا باعث بنے گا۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے مختلف تقاریب میں مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتےہوئے کیا۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کیا جانے والا بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ عوام دشمن ثابت ہو گا۔ بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے اشیائے خوردونوش اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کو عام آدمی کی پہنچ سے مکمل طور پر دور کر دیا ہے۔
ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر کی سطح پر لائی جائے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائےاور کاروباری اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو مستحکم اور فعال بنانے کے لیے خصوصی پالیسی اقدامات کیے جائیں ۔
امیرجماعت اسلامی لاہور کہا کہ گردشی قرضوں کے خاتمے کے نام پر بجلی و گیس کے ٹیرف میں مزید اضافہ عوام دشمنی ثابت ہوگا، جس سے گھریلو اور تجارتی صارفین شدید متاثر ہوں گے اور ان کا ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہوگا۔
امیر لاہورنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ کو محض اعداد و شمار کی مشق بنانے کے بجائے عوام کی حقیقی ضروریات اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی، جامع اور فوری ریلیف پر مبنی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔







