
بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اس وقت اس خبر پر توجہ مرکوز ہے کہ Pakistan نے ایک ممکنہ جنگ بندی کے لیے جامع فریم ورک United States اور Iran کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اس تجویز سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کو دو اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک مکمل اور دیرپا امن معاہدہ طے کرنے کی تجویز شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق، امریکا اور ایران دونوں کو اس فریم ورک کی تفصیلات موصول ہو چکی ہیں، جس میں کشیدگی کم کرنے اور فوری طور پر جارحانہ کارروائیوں کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔
سینئر ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں یہ تجویز موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ Iran کسی بھی فیصلے کے لیے بیرونی دباؤ یا مقررہ ڈیڈ لائن کو قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب Donald Trump نے جاری کشیدگی کے تناظر میں مذاکراتی عمل کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔ نئی ڈیڈ لائن کے مطابق فریقین کو معاہدے کے لیے منگل کی رات (امریکی وقت) تک مہلت دی گئی ہے، جو مختلف ٹائم زونز کے مطابق بدھ کی صبح تک بنتی ہے۔
ادھر Iran نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے کہا کہ ایران دفاعی اور جوابی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا ردعمل خطے بھر میں محسوس کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی جانب سے پیش کیا گیا یہ سفارتی فریم ورک خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا دارومدار متعلقہ فریقین کے ردعمل اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔







