ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

حماس کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، ابو عبیدہ کے بیان نے غزہ جنگ پر نئی بحث چھیڑ دی

ترجمان کے مطابق غیر مسلح ہونے کے مطالبات جنگ بندی میں پیش رفت سے پہلے ناقابل قبول، مذاکرات تعطل کا شکار

غزہ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے تنظیم کے غیر مسلح ہونے سے متعلق مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتا، اس وقت تک ہتھیار ڈالنے یا اس نوعیت کے کسی بھی مطالبے پر بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ تنظیم کے مطابق ایسے مطالبات قبل از وقت ہیں اور ان کا مقصد زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا ہے۔

ایک حالیہ بیان میں ابو عبیدہ نے کہا کہ ہتھیاروں کے مسئلے کو غیر سنجیدہ انداز میں اٹھانا قابل قبول نہیں، اور اس معاملے کو کسی بھی مذاکراتی عمل میں بنیادی شرط کے طور پر پیش کرنا پیچیدگیاں بڑھا سکتا ہے۔

دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے ایک مجوزہ منصوبے پر مختلف فریقین کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے، جس کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ تاہم ان مذاکرات میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ ایک اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، اکتوبر سے امریکہ اور قطر کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، مگر اس دوران بھی جھڑپوں اور حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک بنیادی نکات پر اتفاق نہیں ہوتا، اس تنازع کے حل کی راہ ہموار ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button