
رمضان میں صحت مند رہنے کے لیے مفید غذائی رہنما اصول
افطار اور سحری میں متوازن خوراک سے وزن، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں
رمضان المبارک کے دوران سماجی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ لوگ افطار کے لیے اہل خانہ اور دوستوں کو مدعو کرتے ہیں یا خود دعوتوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ان محفلوں میں لذیذ اور متنوع کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاہم جسمانی سرگرمی میں کمی اور غیر متوازن خوراک کے باعث وزن میں اضافہ اور صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً ذیابیطس کے مریض اگر احتیاط نہ کریں تو شوگر لیول کو متوازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی تناظر میں World Health Organization نے رمضان کے دوران صحت مند رہنے کے لیے چند اہم رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ ان ہدایات پر عمل کر کے نہ صرف وزن کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ یہ صحت بخش عادات رمضان کے بعد بھی جاری رکھی جائیں۔
رمضان میں عمومی صحت بخش ہدایات
-
روزانہ کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینے کی کوشش کریں۔
-
پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، تربوز اور سبز سلاد کو معمول کا حصہ بنائیں۔
-
کیفین والے مشروبات مثلاً کافی، چائے اور کولا کم استعمال کریں کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
-
میٹھے مشروبات سے گریز کریں کیونکہ ان میں اضافی کیلوریز ہوتی ہیں۔
-
شدید گرمی میں دھوپ سے بچیں اور ٹھنڈی یا سایہ دار جگہوں پر رہیں۔
افطار میں کیا کھائیں؟
افطار کے وقت جسم کو فوری توانائی اور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے متوازن غذا کا انتخاب ضروری ہے۔
-
روزہ کھولنے کے لیے تین کھجوریں کھانا مفید ہے کیونکہ کھجور فائبر اور قدرتی توانائی فراہم کرتی ہے۔
-
سبزیوں کا وافر استعمال کریں تاکہ وٹامنز اور منرلز حاصل ہوں۔
-
ثابت اناج (ہول گرین) توانائی اور فائبر کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔
-
گرل یا بیک کیا ہوا کم چکنائی والا گوشت، چکن یا مچھلی صحت مند پروٹین کا ذریعہ ہیں۔
-
تلی ہوئی، زیادہ چکنائی یا چینی سے بھرپور پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔
-
کھانا آہستہ کھائیں اور حد سے زیادہ کھانے سے گریز کریں۔
سحری میں متوازن غذا کی اہمیت
سحری دن بھر توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے، اس لیے اسے ترک نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر بزرگ، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے سحری ضروری ہے۔
-
سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا براؤن بریڈ شامل کریں۔
-
پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے انڈا، دودھ یا پنیر کھائیں۔
-
مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھیں کیونکہ ان میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
-
میٹھے کے طور پر پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ، آڑو یا نیکٹرین بہتر انتخاب ہیں۔
-
زیادہ چکنائی والی اشیا جیسے چربی والا گوشت، پف پیسٹری یا مکھن/مارجرین سے پرہیز کریں۔
نمک اور چکنائی کے استعمال میں احتیاط
-
تلنے کے بجائے بھاپ میں پکانے، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنے یا بیک کرنے کے طریقے اپنائیں۔
-
زیادہ نمک والی اشیا جیسے پراسیسڈ گوشت، ساسیجز، اچار، نمکین اسنیکس اور تیار شدہ ساسز (مایونیز، کیچپ وغیرہ) کم استعمال کریں۔
-
کھانا بناتے وقت نمک کی مقدار کم رکھیں اور دسترخوان پر نمک دان نہ رکھیں۔
-
ذائقے کے لیے جڑی بوٹیوں اور قدرتی مصالحہ جات کا استعمال کریں۔
ہلکی ورزش بھی ضروری
رمضان میں مکمل آرام کے بجائے شام کے وقت ہلکی جسمانی سرگرمی، مثلاً چہل قدمی، کو معمول بنائیں۔ اس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور وزن کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
رمضان میں اعتدال، متوازن غذا اور مناسب جسمانی سرگرمی اپنانے سے نہ صرف روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ جسمانی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ افطار اور سحری کو صحت بخش بنایا جا سکتا ہے۔







