
اسرائیلی انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری، ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو کا اتحاد آگے
سابق اسرائیلی سفیر ایلون پنکاس کے مطابق عرب جماعتوں کو نظر انداز کر کے حکومت بنانا مشکل ہو گا۔
اسرائیل میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، ابتدائی و غیر حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد نے 55 نشستیں جبکہ آئزن کوٹ کے اتحاد نے 50 نشستیں حاصل کی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اتحاد سے الگ شمار کی جائے تو اس نے 28 نشستوں پر برتری حاصل کی ہوئی ہے جبکہ اپوزیشن جماعت یاشر نے 21 نشستیں لی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کا لیکوڈ بلاک مجموعی طور پر آگے ہونے کے باوجود پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتیں بھی اب تک 15 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کو ایک بار پھر حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فلسطینی شہریوں میں ووٹنگ کی شرح تقریباً 80 فیصد رہی جبکہ اسرائیل میں مجموعی شرحِ ووٹنگ 77.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو 1999ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
عرب اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ کے بعد جشن منایا گیا اور آتش بازی بھی کی گئی۔
اسرائیلی عرب سیاسی جماعت یونائیٹڈ عرب لسٹ (رام) کے سربراہ منصور عباس نے امید ظاہر کی ہے کہ حتمی نتائج سے نیتن یاہو مخالف اتحاد کو اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔
سابق اسرائیلی سفیر ایلون پنکاس کے مطابق عرب جماعتوں کو نظر انداز کر کے حکومت بنانا مشکل ہو گا۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے عرب شہریوں کی بڑھتی ہوئی ووٹنگ پر تشویش ظاہر کی ہے جس پر عرب سیاست دانوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور خبر رساں ادارے کے مطابق حتمی نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
ادھر امریکی اخبار کے دعوے کے مطابق امریکا وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر مختصر مگر شدید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جبکہ خلیجی ممالک کو ممکنہ کارروائیوں کے لیے تیار رہنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق سفارتی اور عسکری ذرائع کے درمیان رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔







