Politics

صوبائی بجٹ 2026-27 عوام دشمن، ظالمانہ اور مایوس کن ہے، جماعت اسلامی اسے یکسر مسترد کرتی ہے

امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ صوبائی بجٹ پرسید مودودی اسلامک سنٹر میں احتجاجی پریس کانفرنس

امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ 2026-27 عوامی امنگوں کے برعکس، ظالمانہ اور مایوس کن ہے جس میں عام آدمی، مزدور، سرکاری ملازمین، تاجروں اور متوسط طبقے کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ جماعت اسلامی اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید مودودی اسلامک سنٹر، لٹن روڈ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف اور سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی شاہد نوید ملک بھی موجود تھے۔

ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے غیر ضروری ٹیکسوں کے خاتمے کے بجائے نت نئے طریقوں سے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا ہے جبکہ بجٹ میں عوام کو ایک روپے کا بھی حقیقی ریلیف نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کو بجٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ سرکاری ہسپتال پہلے ہی سہولیات کے فقدان کا شکار ہیں اور کئی ہسپتالوں میں ایک بستر پر دو سے تین مریض علاج کروانے پر مجبور ہیں۔ پنجاب میں ہزاروں سرکاری سکول اور ہیلتھ سینٹرز نجی شعبے کے حوالے کیے گئے ہیں، جس سے عوامی خدمات شدید متاثر ہورہی ہیں۔ نجی ٹھیکیدار تعلیم اور صحت کی بہتری کے بجائے منافع کے حصول کو ترجیح دیں گے۔

امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے نام پر صرف نمود و نمائش میں مصروف ہے جبکہ شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں، فلائی اوورز اور انڈر پاسز کے متعدد منصوبے تاحال نامکمل ہیں۔ مون سون کی آمد قریب ہے، اس لیے بارشوں سے قبل تمام ضروری انتظامات اور ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ گیارہ برس سے بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر عوام کے جمہوری حق کو سلب کیا گیا ہے جبکہ مقامی حکومتوں کے لیے مختص فنڈز بھی دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ شہری علاقوں اور تاریخی مقامات کے نام بار بار تبدیل کرنے کی پالیسی بھی قابل مذمت ہے۔

ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر تاجروں کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے اربوں روپے کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت کو تاجروں اور کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹریفک چالانوں میں کمی کی جائے، شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ ملازمین کی مشکلات میں کمی آسکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ درحقیقت الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے جس کا عوامی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے صحت، تعلیم، روزگار، بلدیاتی نظام اور بنیادی شہری سہولیات پر فوری توجہ دینا ہوگی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ اور حقیقی ریلیف کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور بہت جلد امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس ظالمانہ نظام کے خلاف شٹر ڈاون ، پہیہ جام ہڑتال کال دیں گے ۔

جواب دیں

Back to top button
error: Content is protected !!
بول کر تلاش کریں