
اسرائیل کی سائبر سیکیورٹی اتھارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد ایران سے منسلک ہیکرز نے متعدد سیکیورٹی کیمروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی، جنہیں مبینہ طور پر نگرانی اور معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ سیکڑوں کیمرا مالکان کو ممکنہ سائبر خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے کیمروں کے پاس ورڈ تبدیل کریں اور سافٹ ویئر اپڈیٹ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے بچا جا سکے۔
ادارے کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی ہیکرز کی جانب سے نگرانی کے کیمروں میں درجنوں دراندازی کی کوششوں کا پتہ چل چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر حملے گزشتہ چند برسوں سے کشیدگی کا حصہ رہے ہیں۔
دسمبر 2025 میں اسرائیل کے ایک سابق وزیر اعظم نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر سائبر حملہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان سے منسوب نجی پیغامات، ویڈیوز اور تصاویر ایک ہیکر ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئیں، جسے فلسطینی علامت "ہندالا” کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔
ایک اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد نگرانی کے کیمروں تک غیر قانونی رسائی کی کوششوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
کمپنی کے سائبر انٹیلیجنس سربراہ کے مطابق ان کیمروں سے حاصل ہونے والی تصاویر ممکنہ طور پر حملوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے یا مخصوص مقامات اور افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ ہیکرز ایران کی فوجی اور انٹیلیجنس تنظیموں سے منسلک ہو سکتے ہیں اور انہیں مبینہ طور پر پاسدارانِ انقلاب اور ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس و سیکیورٹی کی حمایت حاصل ہے۔







