
ورلڈ ڈیفنس شو 2026: پاکستان کا ’اسمیش‘ ہائپرسونک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل متعارف
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جاری ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے دوران پاکستان کی دفاعی صنعت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے جدید ہائپرسونک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل ’اسمیش‘ (SMASH) متعارف کرا دیا ہے۔ یہ میزائل پاکستان کی دفاعی کمپنی گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔
دفاعی ذرائع کے مطابق اسمیش میزائل کو سمندری اور زمینی دونوں نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ غیر ملکی دفاعی ویب سائٹس کا کہنا ہے کہ اس میزائل کی نمایاں خصوصیات میں انتہائی تیز رفتار، اعلیٰ درستی اور تقریباً عمودی زاویے سے حملہ کرنے کی صلاحیت شامل ہے، جو اسے جدید فضائی اور میزائل دفاعی نظام سے بچنے کے قابل بناتی ہے۔
اینٹی شپ کنفیگریشن میں اسمیش میزائل کی رینج 290 کلومیٹر بتائی گئی ہے جبکہ اس میں 384 کلوگرام وزنی وارہیڈ نصب ہے۔ نیویگیشن کے لیے ایچ ڈی جی این ایس اسسٹڈ اینرشیل نیویگیشن سسٹم کے ساتھ ایکٹو ریڈار سِیکر استعمال کیا گیا ہے، جو سمندری اہداف کی درست نشاندہی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق میزائل میں سنگل اسٹیج، ڈوئل تھرسٹ سالڈ راکٹ موٹر نصب کی گئی ہے اور اس کی درستگی (سی ای پی) 10 میٹر یا اس سے کم ہے۔ ٹرمینل مرحلے میں اس کی رفتار آواز کی رفتار سے دو گنا سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
زمینی اہداف کے لیے تیار کردہ ورژن میں بھی میزائل کی رینج 290 کلومیٹر رکھی گئی ہے، تاہم اس ورژن میں وارہیڈ کا وزن بڑھا کر 444 کلوگرام کر دیا گیا ہے۔ اس کنفیگریشن میں نیویگیشن کے لیے ایچ ڈی جی این ایس اسسٹڈ اینرشیل نیویگیشن سسٹم استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اس کی درستگی 15 میٹر یا اس سے کم بتائی جا رہی ہے۔
جی آئی ڈی ایس کا کہنا ہے کہ اسمیش میزائل کو دوہرے کردار کی حکمتِ عملی کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ایک ہی میزائل کو بحری اور زمینی دونوں مشنز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار سے لاجسٹک نظام سادہ ہوتا ہے اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں طویل فاصلے تک انتہائی درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اسمیش میزائل کو ایسے ہی پیچیدہ اور خطرناک ماحول میں ایک مؤثر اور جدید ہتھیار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔







