
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کیا
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں عالمی مستقل عدالت برائے ثالثی میں سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے ممکنہ تجاوزات کے خلاف سماعت مکمل ہو گئی۔ یہ سماعت انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کے دوسرے فیز کا حصہ تھی۔
پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کی، جبکہ انڈس واٹرز کمشنر مہر علی اور دیگر سفارتی اہلکار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ عدالت نے سماعت کے دوران بھارت کے منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع پانی کے بہاؤ کا تعین کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر پروجیکٹس لگانے کے معاملے میں اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔ بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا جواب نہیں دیا اور پیش بھی نہیں ہوا۔
عالمی ثالثی عدالت کے بینچ کی سربراہی امریکی پروفیسر شان ڈی مرفی نے کی، جبکہ سماعت میں دیگر بین الاقوامی جج بھی شریک تھے۔ پاکستان کی جانب سے عدالت میں بھارت کے ڈیزائن اور ہائیڈرو پروجیکٹس پر اعتراضات بھی پیش کیے گئے تاکہ باہمی معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔







