
سپریم کورٹ آف پاکستان نے جائیداد کی ملکیت سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف سادہ سیل ایگریمنٹ (خرید و فروخت کا معاہدہ) ملکیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
عدالت کے مطابق جائیداد کے دعویداروں کو اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے معاہدے سے متعلق گواہوں کو عدالت میں پیش کرنا لازمی ہوگا، بصورت دیگر ان کے دعوے کے خلاف منفی تاثر (adverse inference) لیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف دستاویزی دعوے اس وقت تک مکمل ثبوت نہیں بن سکتے جب تک ان کی تصدیق زبانی شہادت اور قانونی تقاضوں کے مطابق نہ ہو۔ اس اصول کا مقصد جعلی یا مشکوک لین دین کے ذریعے جائیداد کے تنازعات کو روکنا ہے۔
ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ رئیل اسٹیٹ کے مقدمات میں شفافیت بڑھانے اور عدالتوں میں غیر ضروری تنازعات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ فریقین کو اپنے دعوے مضبوط ثبوتوں کے ساتھ پیش کرنے کی ترغیب بھی دے گا۔







