Politics

حافظ نعیم الرحمن کی کال پر جماعت اسلامی لاہور کی 7 اگست پہیہ جام احتجاج کی تیاریاں عروج پر

امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی ہال روڈ، فرنیچر مارکیٹ اور ملحقہ علاقوں میں بھرپور ڈور ٹو ڈور مہم

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر 7 اگست کو ہونے والے ملک گیر پہیہ جام احتجاج کی تیاریوں کے سلسلے میں جماعت اسلامی لاہور نے عوامی رابطہ مہم تیز کر دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے ہال روڈ، فرنیچر مارکیٹ اور ملحقہ علاقوں میں تاجروں، دکانداروں اور شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں احتجاج میں بھرپور شرکت کی دعوت دی۔

اس موقع پر ڈور ٹو ڈور مہم کے دوران عوامی آگاہی کے لیے 7 اگست کے پہیہ جام احتجاج کے ہینڈبل بھی تقسیم کیے گئے۔ تاجروں اور شہریوں نے جماعت اسلامی کی احتجاجی کال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے احتجاج میں شرکت اور پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکی ہیں، مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول لیوی کے نام پر عوام سے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ حکومت عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں حقیقی ریلیف فراہم کرے، کیونکہ اب عوام مزید مہنگائی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے اہلِ لاہور سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 7 اگست کو اپنی گاڑیاں شاہراؤں پر روک کر پرامن اور جمہوری احتجاج کا حصہ بنیں اور عوامی حقوق کی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی ہر تحریک آئینی، جمہوری اور مکمل طور پر پرامن رہی ہے۔

جماعت اسلامی نے ہمیشہ تشدد، توڑ پھوڑ اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی سیاست سے اجتناب کیا ہے اور آئینی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ عوام کے حقوق کے حصول، مہنگائی کے خاتمے اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکمرانوں کو عوام کو ریلیف دینا ہوگا اور عوام دشمن معاشی فیصلے واپس لینا ہوں گے، کیونکہ اب خاموش رہنے کا وقت گزر چکا ہے۔

جواب دیں

Back to top button
error: Content is protected !!
بول کر تلاش کریں