
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی، جو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں، نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ملک کے کونے کونے سے لوگ صوابی پہنچیں، جہاں سے آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔
وزیر اعلی کی قیادت میں لانگ مارچ چار اکتوبر کو لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے شروع ہوا اور کرک سے ہوتا ہوا گذشتہ رات کوہاٹ کے علاقے لاچی پہنچا جہاں مظاہرین نے قیام کیا۔
پشاور کے بعد لانگ مارچ کا آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا اس بارے میں اب تک پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ایسے بیانات سامنے آئے ہیں کہ لانگ مارچ جی ٹی روڈ کے ذریعے نوشہرہ اور صوبہ پنجاب کے ساتھ خیر آباد کی جانب جا سکتا ہے جبکہ ایک اطلاع یہ بھی تھی کہ لانگ مارچ صوابی کی جانب جا سکتا ہے۔
اس ہی دوران وزیراعلیٰ نے گذشتہ روز لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ اکتوبر سے ٹی ٹوئنٹی میچ شروع ہوگا اور انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ پاکستان کے کونے کونے سے لوگ صوابی پہنچیں، جہاں سے آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔
گذشتہ دنوں صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مارچ ایک ٹیسٹ میچ ہوگا اور وہ اسلام آباد میں آٹھ مختلف راستوں سے داخل ہوسکتے ہیں۔
فی الحال پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ابھی صوبے کے جنوبی اضلاع تک ہی محدود ہے اور اس کے بعد صوبے کے دیگر علاقوں جیسے ملاکنڈ ڈویژن، ہزارہ ڈویژن، سنٹرل خیبر پختونخوا جیسے پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے لوگ اس میں شامل ہوں گے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار محمد فہیم کا کہنا ہے کہ اصل عوامی قوت کا اندازہ اس وقت ہوگا جب لانگ مارچ پشاور سے روانہ ہوگا اور صوابی پہنچے گا۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی کیا کہتے ہیں؟
کوہاٹ کی تحصیل لاچی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ منگل کے روز سہ پہر 3 بجے کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک سے پشاور کی جانب سفر شروع ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں خود کو تھکانا نہیں، ہماری جدوجہد طویل ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ پیغام دنیا کو پہنچانا ہے کہ خیبرپختونخوا عمران خان کا ہے، عمران خان کا تھا اور عمران خان کا ہی رہے گا۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردی مسلط کی گئی ہے۔







