ٹائٹلعالمی امور

ایران پر امریکی حملے کی دھمکی، چین کا ردعمل: طاقت کے استعمال اور مداخلت کی سخت مخالفت

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ چین ہمیشہ دوسرے ممالک کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتا آیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ریاست کے معاملات میں بیرونی مداخلت بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ حملے کی دھمکی پر چین نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ چین ہمیشہ دوسرے ممالک کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتا آیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ریاست کے معاملات میں بیرونی مداخلت بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دے، کیونکہ یہی طریقہ علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں بارہا یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکہ کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت نے ایک “سرخ لکیر” عبور کر لی ہے اور اب واشنگٹن مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایرانی حکام نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے اور وہ مذاکرات کے خواہاں ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ امریکہ ملاقات سے قبل ہی کوئی اقدام کر سکتا ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے ان ممکنہ اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی، مگر ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس “انتہائی سخت آپشنز” موجود ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کے مطابق ایک امریکی سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔

یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ چین کا موقف اس بات پر زور دیتا ہے کہ طاقت کے بجائے سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی مسئلے کا پائیدار حل ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button