
حکومت پاکستان نے غذائی تحفظ کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر متعلقہ اداروں سے گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک ماہ پر مشتمل عملی منصوبہ طلب کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق اس پلان کا مقصد زرعی پیداوار میں فوری بہتری لانا، کاشتکاروں کی معاونت بڑھانا اور ملکی سطح پر گندم کی دستیابی کو مستحکم بنانا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اراکین نے گندم کی خریداری کے جاری بحران پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بروقت اور مؤثر خریداری نظام نہ ہونے کے باعث کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ سیزن میں غذائی تحفظ کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ گندم کی خریداری کے نظام کو شفاف بنایا جائے اور کسانوں کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے تاکہ پیداوار اور سپلائی چین دونوں مستحکم رہ سکیں۔







