ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

علی لاریجانی کی ہلاکت بڑا سانحہ قرار، عالمی میڈیا اور ماہرین کی تشویش

برطانوی اخبار کی رپورٹ، ماہرین کے مطابق لاریجانی ایران اور مغرب کے درمیان ممکنہ رابطے کا اہم ذریعہ تھے

ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ میں ایرانی رہنما Ali Larijani کی ہلاکت کو ایران کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا گیا ہے، جسے بعض تجزیہ کاروں نے غیر معمولی اہمیت کا حامل واقعہ کہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ Ali Khamenei کے قریبی سمجھے جانے والے Ali Larijani کی موت ایران کی داخلی اور خارجی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

یورپی تھنک ٹینک European Council on Foreign Relations سے وابستہ ایرانی امور کی ماہر Ellie Geranmayeh کا کہنا ہے کہ Benjamin Netanyahu کی حکمت عملی کا مقصد ممکنہ جنگ بندی اور اس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کے تمام راستے محدود کرنا ہو سکتا ہے، خصوصاً وہ راستے جو Donald Trump کے ذریعے کھل سکتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ Ali Larijani ایسے رہنما تھے جو ایران اور مغربی دنیا کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر سکتے تھے، اور ان کی عدم موجودگی سفارتی امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں Ali Larijani کو Tehran کے مشرقی علاقے میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ذاتی مصروفیت کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔

67 سالہ Ali Larijani انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے، جبکہ صدارتی انتخابات میں بھی نمایاں امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی ہلاکت نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ خطے میں جاری سفارتی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button