
دنیا میں گلابی پاسپورٹ کیوں نہیں؟ حیران کن وجہ سامنے آ گئی
پاسپورٹ کے محدود رنگوں کی ایک وجہ سیاسی یا مذہبی نہیں بلکہ تیاری کا طریقہ بھی ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک کے پاسپورٹس عموماً صرف 4 سُرخ، نیلا، سبز اور سیاہ رنگ میں نظر آتے ہیں جبکہ ان 4 رنگوں کے انتخاب کی دلچسپ وجوہات سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیلے رنگ کو بعض ممالک میں نئی دنیا کی علامت کے طور پر اپنایا گیا ہے جبکہ یورپ کی پرانی شناخت سے فاصلے کا اظہار بھی اس سے جوڑا گیا ہے۔
دوسری جانب سرخ رنگ بعض اوقات کمیونسٹ نظام سے منسلک سمجھا گیا جس کے باعث کچھ ممالک میں پاسپورٹ کا رنگ سیاسی علامت بھی بن گیا۔
کروشیا کی اگر مثال لیں تو یورپی یونین میں شامل ہونے کے باوجود اس ملک نے اپنا نیلا پاسپورٹ برقرار رکھا اور اسے احتجاج کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
سبز رنگ کو زیادہ تر مذہبی وابستگی سے جوڑا جاتا ہے، کئی اسلامی ممالک سبز پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں کیونکہ سبز رنگ کو پیغمبرِ اسلام ﷺ کا پسندیدہ رنگ سمجھا جاتا ہے۔
سیاہ رنگ ان 4 رنگوں میں سب سے کم عام ہے، نیوزی لینڈ اپنے قومی تشخص کے اظہار کے لیے سیاہ پاسپورٹ استعمال کرتا ہے جبکہ بعض ممالک میں سیاہ رنگ سفارتی پاسپورٹ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
تمام ممالک اس حوالے سے اپنی مرضی کے مالک ہیں کہ وہ کسی بھی رنگ کا پاسپورٹ جاری کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ نیلے، سیاہ، سبز اور سرخ رنگ کے مختلف شیڈز بھی پاسپورٹس کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔
گلابی یا ہلکے رنگ کے پاسپورٹ کیوں نہیں ہوتے؟
پاسپورٹ کے محدود رنگوں کی ایک وجہ سیاسی یا مذہبی نہیں بلکہ تیاری کا طریقہ بھی ہے۔
پاسپورٹ کے سرورق پر سنہری نشان گرم دھاتی ورق کے ذریعے ثبت کیا جاتا ہے جو گہرے رنگوں کے پسِ منظر پر زیادہ واضح، نفیس اور نمایاں دکھائی دیتا ہے جبکہ نیپال کا پاسپورٹ گہرے بھورے رنگ کا ہے اس پر بھی یہ اسٹامپ واضح نظر آتی ہے۔
اسی وجہ سے شوخ گلابی یا پیلے رنگ جیسے ہلکے اور روشن رنگ عملی طور پر کم موزوں سمجھے جاتے ہیں۔







