
وزیر دفاع سے اختلافات، امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی
41 سالہ ڈرسکول امریکی تاریخ کے کم عمر ترین آرمی سیکریٹری تھے۔
امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے عہدہ سنبھالنے کے تقریباً 18 ماہ بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس کے مطابق ان کی رخصتی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری اختلافات کے پس منظر میں ہوئی ہے۔
41 سالہ ڈرسکول امریکی تاریخ کے کم عمر ترین آرمی سیکریٹری تھے۔
حالیہ چند ماہ کے دوران امریکہ کے کئی اعلیٰ فوجی حکام نے اپنے عہدے چھوڑے ہیں۔ اس سے قبل نیوی کے سیکریٹری جان فیلن، آرمی چیف آف سٹاف رینڈی جارج، جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ایک درجن سے زائد سینیئر فوجی افسران کو برطرف کر چکے ہیں، جن میں چیف آف نیول آپریشنز اور امریکی فضائیہ کے نائب سربراہ بھی شامل ہیں۔ تاہم ڈرسکول اور ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی آرمی سیکریٹری کا عہدہ فوج کا اعلیٰ ترین سویلین منصب سمجھا جاتا ہے جو فعال فوج، نیشنل گارڈ اور ریزرو فورسز کی نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
ڈین ڈرسکول نے 2007 میں امریکی فوج میں بطور افسر خدمات کا آغاز کیا، بعد ازاں ایک کیولری پلاٹون کی قیادت کی اور 2009 میں عراق میں بھی تعینات رہے۔ آرمی سیکریٹری کی حیثیت سے وہ جنگی میدان میں جدید ڈرون اور نئی عسکری ٹیکنالوجیز کے فروغ کے حوالے سے خاص طور پر نمایاں رہے۔
انہوں نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی ساتھی اور ذاتی دوست بھی سمجھے جاتے ہیں۔
اپنی مدت کے دوران ڈرسکول نے امریکی شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ وہ بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسوز (اے ٹی ایف) کے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں بھی سنبھالتے رہے۔







