
پاکستانی وزیرِ داخلہ نے ایرانی قیادت کو مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لیا: ایرانی خبر رساں ایجنسی
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل کا ایک خصوصی اور اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچایا
گذشتہ روز پاکستان کے پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔
تاہم ان ملاقاتوں کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔
اب ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ملاقاتوں میں محسن نقوی نے خطے کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل کا ایک خصوصی اور اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے۔
ارنا کے مطابق انھوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے کے بارے میں بھی بریفنگ دی اور ایرانی قیادت کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا۔ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
سوموار کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔‘
انھوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور کہا: ’ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘
بقائی نے یہ بھی کہا کہ جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ’آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘







