
اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے: ممکنہ راستے، حکمت عملی اور خطے کی صورتحال
دفاعی ماہرین کے مطابق اسرائیلی طیارے شام، عراق اور دیگر فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بناتے ہیں
دفاعی ماہرین اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیارے ایران پر حملوں کے لیے ایک سے زائد فضائی راستے اختیار کرتے ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کی فضائی حدود شامل ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر کیے جانے والے بیشتر حملے شام اور عراق کے اوپر سے گزر کر انجام دیے جاتے ہیں، کیونکہ ان دونوں ممالک کا فضائی دفاعی نظام کمزور یا غیر مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر شام میں جاری سیاسی عدم استحکام کے دوران اسرائیل نے وہاں کے دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، جس کے بعد جنوبی شام میں ایک ممکنہ فضائی راہداری قائم ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل شام، عراق اور اردن کی فضائی حدود کو ممکنہ طور پر استعمال کرتا ہے۔ اردن کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات نسبتاً بہتر ہیں، جس کی وجہ سے اس راستے کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں اردن نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں اسرائیل کی مدد بھی کی تھی، جبکہ 2020 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے۔
ایک اور ممکنہ راستہ شمالی سعودی عرب اور خلیج فارس کے اوپر سے گزرتا ہے، تاہم اس راستے میں سعودی عرب کے جدید فضائی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹر طیارے اسرائیلی مشنز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر تبوک کے قریب فضائی نگرانی سخت ہونے کے باعث۔
مزید برآں، ایک طویل فضائی روٹ بحیرہ احمر سے ہوتا ہوا یمن اور عمان کے گرد گھوم کر ایران تک پہنچتا ہے، جس کا فاصلہ تقریباً 4,700 کلومیٹر بنتا ہے۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق یہ راستہ طویل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے کم استعمال ہونے کا امکان رکھتا ہے۔
حالیہ تجزیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی طیارے زیادہ تر جنوبی شام کے راستے ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسرائیل اس خطے کو غیر مستحکم کر کے اسے ایک فضائی کوریڈور کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ایندھن بھرنے والے طیارے اور ڈرونز بھی اسی فضائی حدود میں سرگرم دیکھے گئے ہیں۔







