
Iran میں جاری کشیدہ حالات اور معاشی دباؤ کے دوران ایک مقامی سپر مارکیٹ نے انسان دوستی اور سماجی یکجہتی کی منفرد مثال قائم کر دی ہے، جس نے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔
سپر مارکیٹ کے باہر لگے ایک سادہ مگر مؤثر ہاتھ سے لکھے گئے بورڈ پر درج تھا کہ "جتنی ضرورت ہو لے جائیں، ادائیگی بعد میں کر دیں”۔ اس پیغام نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کر لی اور اسے بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ملک میں اشیائے خورونوش کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایسے حالات میں دکاندار کا یہ اقدام صرف ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ معاشرتی ہمدردی اور باہمی تعاون کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین اسے ایران میں موجود سماجی روایت Wall of Kindness کی جدید شکل قرار دے رہے ہیں، جہاں لوگ ضرورت مندوں کے لیے اشیاء چھوڑ جاتے ہیں۔
یہ روایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشکل وقت میں معاشرہ کس طرح ایک دوسرے کا سہارا بنتا ہے۔
مزید برآں، حالیہ دنوں میں ایرانی حکومت کی جانب سے قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے خصوصی تقریبات بھی منعقد کی گئی تھیں، اور ایسے اقدامات اس جذبے کو مزید تقویت دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ عوام مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔







