پاکستانٹائٹل

وائٹ ہاؤس کی تصدیق: ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

امریکا کا حساس سفارتی معاملات پر محتاط مؤقف، پاکستان کا ایران تنازع میں ممکنہ ثالثی کردار

وائٹ ہاؤس نے سابق امریکی صدر Donald Trump اور پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے کی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان Karoline Leavitt نے میڈیا بریفنگ کے دوران ممکنہ امریکی وفود کے دورۂ اسلام آباد سے متعلق سوال پر کہا کہ یہ نہایت حساس سفارتی معاملہ ہے اور امریکا اس پر عوامی سطح پر تبصرہ کرنے سے گریز کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں مختلف ملاقاتوں اور رابطوں کے بارے میں قیاس آرائیاں قبل از وقت ہیں، اور کسی بھی پیش رفت کو حتمی سمجھنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے باضابطہ اعلان کا انتظار کرنا چاہیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکات پر مشتمل پیغام بھی پہنچایا ہے، جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif اور ایران کے صدر Masoud Pezeshkian کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

ادھر پاکستان کے وزیر خارجہ Ishaq Dar نے ایرانی ہم منصب Abbas Araghchi سے گفتگو میں خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق، اگر متعلقہ فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان اس اہم معاملے پر مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جس سے اس کے ممکنہ ثالثی کردار کو تقویت مل سکتی ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی اخبار Financial Times نے حال ہی میں رپورٹ کیا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اتوار کو رابطہ ہوا، جبکہ پاکستان ایران تنازع کے حل کے لیے ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور پسِ پردہ سفارتی روابط میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button