
ایران کا امریکا سے براہ راست مذاکرات سے انکار، جنگ بندی کیلئے 6 اہم شرائط پیش
ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ فوری جنگ بندی ممکن نہیں، میدان جنگ کی صورتحال فیصلہ کن
ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی فوری طور پر ممکن نہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ روکنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت چھ اہم شرائط پیش کی گئی ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بعض دوست ممالک کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے، جن میں کہا گیا کہ امریکا جنگ کے خاتمے کیلئے بات چیت کا خواہاں ہے۔ تاہم ایران نے اپنے اصولی مؤقف کے مطابق ان پیغامات کا جواب دیا ہے۔
ایک سینئر ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی فریقین اور ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک نے جنگ بندی کی تجاویز پیش کی ہیں، لیکن ایران نے اس حوالے سے واضح شرائط رکھ دی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اہلکار کے مطابق نئے اسٹریٹیجک فریم ورک کے تحت ایران نے چھ بنیادی شرائط پیش کی ہیں:
-
جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی مضبوط ضمانت
-
خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ
-
مبینہ جارح قوتوں کی پسپائی اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی
-
تمام علاقائی محاذوں پر کشیدگی کا خاتمہ
-
آبنائے ہرمز کیلئے نئے قانونی نظام کا نفاذ
-
ایران مخالف میڈیا نیٹ ورکس کے خلاف قانونی کارروائی اور ملک بدری
ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ذرائع یا ثالثوں کے ذریعے امریکا یا اسرائیل تک پہنچائی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں ایک سیکیورٹی اور سیاسی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت مرحلہ وار پیش رفت کر رہا ہے اور "اسٹریٹیجک تحمل” کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے مخالف فریق کے فضائی دفاعی نظام کو کمزور کر دیا ہے اور اب فضائی برتری حاصل کر چکا ہے، جس کے باعث فوری جنگ بندی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کا جواب جاری رکھا جائے گا اور جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے، دفاعی اقدامات میں کمی نہیں لائی جائے گی۔







